پاکستان اور روس کا افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق

نیویارک (وائس آف رشیا) پاکستان اور روس نے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاقِ رائے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر الیگزینڈرووچ کولوکولتسیف کے درمیان ملاقات میں ہوا۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے داخلہ نے انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، سائبر کرائم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے دونوں وزارتِ داخلہ کے درمیان یادداشتِ مفاہمت (MoU) پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر انسداد منشیات، انسداد دہشت گردی، سائبر کرائم اور دونوں ممالک کی پولیس کے درمیان مشترکہ مشقوں کے انعقاد کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے روسی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، جبکہ دونوں رہنماؤں نے اپنی گزشتہ ملاقات میں ہونے والے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔

ملاقات کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ افغانستان میں 25 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور ان کا خاتمہ پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی موقع پر محسن نقوی نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں چین کے وزیر مملکت برائے پبلک سکیورٹی اور اسپیشل سروس بیورو کے سربراہ لنگ ژی فینگ سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں ممالک نے داخلی سلامتی، سرحدی نظم و نسق، غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور انسداد منشیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کو ہر سطح پر روکنے کی ضرورت ہے اور دہشت گردی کی سرپرستی اور مالی معاونت کرنے والے عناصر کا اجتماعی طور پر مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے پاکستان میں قائم اسپیشل پروٹیکشن پولیس فورس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے عوامی روابط اور ویزا سہولیات میں مزید آسانی ضروری ہے۔

چینی وزیر مملکت نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو اس خطرے کے خلاف مل کر کام جاری رکھنا چاہیے، جبکہ ویزا اور امیگریشن سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سری لنکا کے وزیر داخلہ آنندا وجے پالہ سے بھی ملاقات کی، جس میں انسداد منشیات، پولیس تربیت، غیر قانونی ہجرت اور جعلی پاسپورٹس کے استعمال کی روک تھام کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں ممالک نے سرحد پار جرائم اور منی لانڈرنگ کے خلاف تعاون کے لیے ایک یادداشتِ مفاہمت پر پیش رفت، مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور ویزا سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں