ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس نے الاسکا کے شہر اینکریج میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران امریکا کی جانب سے پیش کی گئی مفاہمتی تجاویز کو قبول کر لیا تھا، جبکہ اس حوالے سے دیگر تمام تشریحات غیر متعلقہ ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا، “صدر ولادیمیر پوتن نے یاد دلایا کہ 15 جولائی کو الاسکا کے اینکریج سربراہی اجلاس میں ہمارے سامنے مفاہمتی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ ان پر غور کرنے کے بعد ہم نے انہیں قبول کر لیا۔ وہاں کیا ہوا یا کیا نہیں ہوا، اس بارے میں دیگر تمام تشریحات غیر متعلقہ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ الاسکا میں روس کو بتایا گیا تھا کہ ولادیمیر زیلنسکی امریکا کی سفارشات پر عمل کریں گے۔
سرگئی لاوروف نے کہا، “اب ہم دیکھیں گے کہ انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔”
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں ماسکو اور کیف دونوں تنازع کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اس معاملے پر 7 اور 8 جولائی کو ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں بھی بات چیت کی جائے گی۔









