پاکستان روس پہلی بین الاقوامی سٹوڈنٹ ریسرچ کانفرنس کا کامیاب انعقاد

اسلام آباد(وائس آف رشیا) فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد، فنانشنل یونیورسٹی ماسکو اور کنسورشیم فار ایشیا پیسیفک اینڈ یوریشین اسٹڈیز (CAPES) کے اشتراک سے پاکستان۔روس پہلی بین الاقوامی سٹوڈنٹ ریسرچ کانفرنس آن لائن منعقد ہوئی۔

کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر فیڈرل اردو یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے دونوں جامعات کو اس منفرد علمی کاوش پر مبارکباد دی انہوں نے شعبہ آئی آر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیڈرل اردو یونیورسٹی کے طلبہ اپنی تحقیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ بین الاقوامی فورم پر کر رہے ہیں، یہ خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تحقیق کے فروغ اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت علمی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے جامعہ اردو اپنی معاونت جاری رکھے گی۔

فنانشل یونیورسٹی روس کی ڈپٹی ڈین ڈاکٹر داریا اوسینینا نے کانفرنس کے انعقاد پر فیڈرل اردو یونیورسٹی اور کیپس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق میڈیا، ثقافت، ماحولیات اور بین الاقوامی تعلقات ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک مشترکہ تحقیقی تعاون کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔

کانفرنس کے شریک منتظم اور شعبہ آئی آر فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد کے سربراہ ڈاکٹر فیصل جاوید نے تمام شرکاء، اساتذہ، سپروائزرز، طلبہ، کیپس اور فنانشل یونیورسٹی کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ڈیپارٹمنٹ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی بین الاقوامی علمی سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھے گا تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو تحقیق، سیکھنے اور عالمی تعاون کے مزید مواقع میسر آ سکیں۔

کانفرنس کے دوران پاکستان اور روس کے نو ریسرچ ٹیموں نے تجارت و سیاسی تعلقات، ثقافت، سفارت کاری، میڈیا، مصنوعی ذہانت، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی و معاشی روابط سے متعلق اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ ان ریسرچ پروجیکٹس کی نگرانی پاکستان اور روس کے یونیورسثی اساتذہ ڈاکٹر سکندر علی زرین، ڈاکٹر تیمور خان، ڈاکٹر گلِ عائشہ بھٹی، ڈاکٹر سندس خضر، ڈاکٹر اسٹیپن واسیلینکو، ڈاکٹر اولیگ نوویکوف، ڈاکٹر ویرونیکا یوساچیوا اور ڈاکٹر ایوان پیاٹیبراتوف نے کی۔
ریسرچ پیپرز کا جائزہ لینے کے لئے موجود ماہرین نے تحقیقی معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، ثقافت، میڈیا اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبوں اہم اضافہ ہے۔

کانفرنس کے سیشنز کی نظامت ڈاکٹر سندس خضر اور ڈاکٹر اسٹیپن واسیلینکو نے انجام دی۔ اختتامی تقریب میں شرکاء کی خدمات کو سراہا گیا اور دونوں اداروں نے پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کانفرنس میں پیش کیے گئے ریسرچ پیپرز چھ ماہ پر محیط مشترکہ تحقیقی منصوبے کا نتیجہ ہیں، جس کا آغاز فروری 2026 میں دونوں جامعات کے اساتذہ اور طلبہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ اس علمی اشتراک کے تحت دونوں جامعات ایک مشترکہ تحقیقی کتاب بھی شائع کریں گی، جس میں کانفرنس میں پیش کیے گئے ہر تحقیقی مقالے کو ایک علیحدہ باب کی صورت میں شامل کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں