اوسی…
لاہور میں ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹس فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔۔۔
تقریب میں روسی سفارتکاروں، وفاقی وزیر صحت، مختلف جامعات کے سربراہان اور روس سے تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی گریجویٹس نے شرکت کی۔۔۔
شرکاء نے پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔۔۔ مزید تفصیلات جانتے ہیں شاہد گھمن کی اس رپورٹ میں
وی او…
لاہور میں ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹس فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس (APGRACI) کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار ایلومینائی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر صحت مختار احمد بھرت، روسی سفارتکاروں، مختلف جامعات کے سربراہان، پاکستانی گریجویٹس اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کے علاوہ پاکستان کمیونٹی روس کے صدر ملک شہباز، ڈاکٹربابراسلام اور ڈاکٹرعارف اسلام نے ماسکو سے خصوصی طور پر شرکت کی.
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں تعینات روسی سفارتکار گلیب شوپن نے پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کو ایک اہم دوست اور شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
روسی سفارتکار نے ایسوسی ایشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم روس میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی شعبوں میں روابط کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
تقریب میں روسی فرینڈشپ یونیورسٹی کی ڈین ڈیپارٹمنٹ آف فارن افیئرز مس انارہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ روسی جامعات بین الاقوامی طلبہ خصوصاً پاکستانی طلبہ کے لیے بہترین تعلیمی مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ اپنی محنت اور صلاحیتوں کی بدولت روسی تعلیمی اداروں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
تقریب سے ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے قیام کو 25 برس مکمل ہونا ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تقریب میں پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی بڑی تعداد میں روسی جامعات کے پاکستانی گریجویٹس شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سے تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدان، ماہرین تعلیم اور دیگر پروفیشنلز ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ ایسوسی ایشن کا مقصد روس اور پاکستان کے درمیان علمی، ثقافتی اور پیشہ ورانہ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم مختلف تعلیمی پروگراموں، سیمینارز اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
تقریب سے پاکستان کمیونٹی روس کے صدر ملک شہباز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ عالمی سطح پر دوستی، ہم آہنگی اور تعاون کے سفیر بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی روابط مختلف ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
سری لنکن ایلومینائی کے صدر بدھا پریا رامانا نے بھی تقریب سے خطاب کیا
شرکاء نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے علمی، تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی روابط کو فروغ دیا جائے گا۔ تقریب کے اختتام پر تنظیم کی 25 سالہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور پاکستان کمیونٹی روس کے صدر ملک شہبازم ڈاکٹر باربراسلام، ڈاکٹرعارف اسلام، نمائندہ دنیا نیوز ماسکو شاہد گھمن کو اعزازی شیلڈزپیش کی گئیں.
تقریب میں موسیقی اور لوک ڈانس بھی پیش کیا گیا.
ساٹس…….









