بھارت کی موجودہ پالیسیاں جنوبی ایشیا میں امن کے لیے نقصان دہ، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے: سفیر فیصل نیاز ترمذی

پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس منسوخ نہیں بلکہ مؤخر ہوا، پاکستان اور روس کے درمیان براہ راست پروازیں وقت کی اہم ضرورت ہیں

ماسکو: شاہد گھمن

روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کا متوقع دورۂ روس منسوخ نہیں بلکہ غیر متوقع حالات کے باعث مؤخر کیا گیا ہے۔

ماسکو میں سفارت خانہ پاکستان میں روسی اور پاکستانی صحافیوں کے ساتھ خصوصی نشست سے خطاب اور مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی اور بڑی فوجی طاقتیں ہیں، اس لیے دونوں ممالک پر خطے کے امن و استحکام کے حوالے سے خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول کسی بھی قسم کی فوجی محاذ آرائی یا غلط اندازے کے نتائج صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔

بھارت کے ساتھ تعلقات مذاکرات سے ہی بہتر ہو سکتے ہیں

بھارت سے متعلق سوال کے جواب میں سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی، فلمی، موسیقی، کھیلوں اور عوامی سطح پر وسیع روابط موجود تھے۔ دونوں ممالک کے فنکار ایک دوسرے کے ملکوں کا دورہ کرتے تھے، کرکٹ مقابلے ہوتے تھے اور عوامی سطح پر تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری تھیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں یہ مثبت عمل تقریباً رک چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف مذاکرات، باہمی احترام اور مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان بھارت کی قدیم تہذیب اور مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو جیسے رہنماؤں کا احترام کرتا ہے، تاہم ان کے بقول موجودہ بھارتی قیادت کی پالیسیاں خطے میں کشیدگی پیدا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑے ممالک کو اپنی طاقت کے ذریعے اپنے ہمسایہ ممالک پر دباؤ ڈالنے کے بجائے برابری اور تعاون کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے بقول بھارت کو پاکستان، چین، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

افغانستان میں پاکستان مخالف عناصر کی پشت پناہی کا الزام

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تاریخی، ثقافتی، لسانی، قبائلی اور خاندانی تعلقات رکھتا ہے اور اسلام آباد ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان، چین، روس، ایران، تاجکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں شہریوں، فوجیوں، پولیس اہلکاروں، خواتین اور بچوں کی قربانیاں دی ہیں، اس لیے پاکستان افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کو قبول نہیں کر سکتا۔

اسی تناظر میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت افغانستان میں پاکستان مخالف عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہے اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو پاکستان، چین، روس، ایران یا وسطی ایشیائی ریاستوں کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز نہیں بننا چاہیے کیونکہ ایسی صورتحال پورے خطے کے امن اور علاقائی رابطوں کو متاثر کرے گی۔

افغانستان کا مسئلہ فوجی طاقت سے حل نہیں ہو سکتا

سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کے ساتھ روابط ضرور رکھے، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان نے ان کی ہر پالیسی کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ بامیان میں بدھ کے تاریخی مجسموں کی تباہی سے قبل پاکستان نے طالبان قیادت کو اس فیصلے پر نظرثانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے امریکا کو بھی خبردار کیا تھا کہ افغانستان کا مسئلہ فوجی طاقت کے ذریعے حل نہیں ہو سکتا۔ ان کے بقول افغانستان میں دیرپا امن صرف سیاسی مذاکرات اور تمام متعلقہ فریقوں پر مشتمل سیاسی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں چاہتا، تاہم کابل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ایسے عناصر کو کام کرنے کی اجازت نہ دے جو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہوں۔

سفیر پاکستان کے مطابق پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تمام مسائل مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود تاریخی اور عوامی روابط اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ برقرار رہنا چاہیے

بھارت کے ساتھ آبی تنازعات پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے سندھ طاس معاہدے کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ کئی جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود برقرار رہا اور یہی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کی بنیادی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت، خوراک اور لاکھوں لوگوں کی زندگی دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے، اس لیے پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا اسے سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ پانی کو جنگی یا سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے اور تمام بین الاقوامی معاہدوں پر نیک نیتی سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان کا سفارتی کردار

ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق سوال کے جواب میں سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان ایران، امریکا اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کشیدگی کو وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران تقریباً نو کروڑ آبادی اور ہزاروں سال پرانی تہذیب رکھنے والا ایک اہم ملک ہے۔ ان کے بقول ایران کے خلاف جنگ شروع کرنا ممکن ہو سکتا ہے، لیکن ایسی جنگ کو ختم کرنا اور اس کے نتائج پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگا۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں کے سامنے دیانت داری کے ساتھ زمینی حقائق رکھے ہیں اور اسلام آباد کسی ایک فریق کا آلہ کار بننے کے بجائے ایک ذمہ دار سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

خلیج میں جنگ کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے

سفیر فیصل نیاز ترمذی نے خبردار کیا کہ اگر خلیج میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، تجارت، خوراک اور کھاد کی قیمتیں بھی شدید متاثر ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے اور عالمی تیل و گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی منڈیوں میں سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ خلیجی ممالک کے بیشتر شہر سمندری پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اگر جنگ کے دوران بنیادی تنصیبات کو نقصان پہنچا تو لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے ایران کی بوشہر جوہری تنصیب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں روسی ماہرین اور تکنیکی عملہ بھی موجود ہے، اس لیے کسی بھی حملے کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی حل سمجھتا ہے

فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان نے مختلف عالمی معاملات میں ہمیشہ سفارتی اور اخلاقی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ کے بجائے مذاکرات، ثالثی اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ طاقت کے استعمال سے تنازعات وقتی طور پر دبائے جا سکتے ہیں، لیکن مستقل طور پر حل نہیں کیے جا سکتے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس مؤخر، منسوخ نہیں

وزیراعظم شہباز شریف کے متوقع دورۂ روس سے متعلق سوال پر سفیر پاکستان نے کہا کہ یہ دورہ منسوخ نہیں ہوا بلکہ غیر متوقع حالات کے باعث مؤخر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اس دورے کے منتظر تھے اور پاکستانی وفد کی تیاری بھی مکمل تھی۔ نئی ممکنہ تاریخیں روسی حکام کو فراہم کر دی گئی ہیں اور دونوں ممالک اس حوالے سے سفارتی سطح پر رابطے میں ہیں۔

فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف روس کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور حال ہی میں ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانی میں سوویت یونین کا دورہ بھی کیا تھا اور انہیں روس کی تاریخ سے خصوصی دلچسپی ہے۔ دورے کی تیاری کے دوران انہوں نے ماسکو کے تاریخی مقامات کے بارے میں بھی استفسار کیا تھا۔

سفیر پاکستان کے مطابق پاکستان اور روس دونوں حکومتیں دورے کے لیے نئی تاریخوں کے تعین پر کام کر رہی ہیں۔

پاکستان اور روس کے درمیان براہ راست پروازوں کی ضرورت

پاکستان اور روس کے درمیان براہ راست فضائی رابطوں سے متعلق سوال پر سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں تجارت، سیاحت، تعلیم، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ابتدائی مرحلے میں پاکستانی ایئر لائن کی ایک اور روسی ایئر لائنز کی دو ہفتہ وار پروازیں بھی شروع ہو جائیں تو دونوں ممالک کے درمیان روابط میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً تیرہ سو پاکستانی طلبہ روس میں زیر تعلیم ہیں، تاہم ان کے بقول یہ تعداد دونوں ممالک کی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے اور اسے مستقبل میں بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ویزا کے اجرا کا عمل براہ راست پروازوں کی راہ میں ایک اہم مسئلہ رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان حالیہ پیش رفت سے اس سلسلے میں آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

روس اور پاکستان کے درمیان تجارت اور توانائی میں تعاون کے وسیع امکانات

سفیر پاکستان نے کہا کہ خلیج کی حالیہ صورتحال نے متبادل توانائی ذرائع کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن اور ایران، پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پر کام کرتا رہا ہے۔

ان کے بقول روس مستقبل میں پاکستان کی توانائی ضروریات اور علاقائی منصوبوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اگرچہ بعض عملی رکاوٹیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے علاقائی تجارت اور رابطوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور مستقبل میں کراچی سے ایران، وسطی ایشیا، روس اور بیلاروس تک سڑک اور ریل کے ذریعے تجارتی روابط کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر ہیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق سوال کے جواب میں سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ موجودہ عالمی سیاسی، سلامتی اور مالیاتی نظام دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 1991 تک دنیا دو قطبی نظام کے تحت چلتی رہی، جس کے بعد ایک عرصے تک یک قطبی نظام غالب رہا، تاہم اب دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

ان کے مطابق روس اور چین کے ساتھ ساتھ پاکستان، انڈونیشیا، سعودی عرب، ترکیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک بھی عالمی امور میں پہلے سے زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی اداروں میں گلوبل نارتھ کے ممالک کو زیادہ نمائندگی حاصل ہے، جبکہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور اقتصادی اہمیت کے باوجود انہیں عالمی فیصلہ سازی میں مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ اقوام متحدہ اب بھی عالمی امن و سلامتی کا سب سے اہم ادارہ ہے، تاہم موجودہ عالمی حقائق کے مطابق اس کے ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ اسے زیادہ نمائندہ اور متوازن بنایا جا سکے۔

شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون کا اہم پلیٹ فارم

شنگھائی تعاون تنظیم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ جغرافیائی وسعت اور آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کی اہم ترین علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم میں روس، چین، پاکستان، بھارت، بیلاروس اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں اور یہ علاقائی سلامتی، تجارت، توانائی اور رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر علاقائی تعاون کو فروغ دینے کا حامی ہے۔

سفیر پاکستان نے الزام عائد کیا کہ بعض مواقع پر بھارت نے تنظیم کے اندر پاکستان اور چین کی جانب سے پیش کی جانے والی بعض علاقائی تجاویز کی مخالفت کی، جبکہ پاکستان نے بھارتی تجاویز کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کیا۔ ان کے مطابق پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو باہمی تعاون کے مؤثر فورم کے طور پر دیکھتا ہے۔

روسی میڈیا کے ساتھ تعاون کا خیر مقدم

نشست کے دوران ایک روسی ٹیلی ویژن چینل کے نمائندے نے پاکستان کی ثقافت، سیاحت، موسیقی، روایات اور سرمایہ کاری کے مواقع پر مشترکہ پروگرام تیار کرنے کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں پاکستان میں قابل اعتماد اداروں سے روابط قائم کرنے کے لیے سفارت خانے سے تعاون کی درخواست کی۔

اس پر سفیر فیصل نیاز ترمذی نے تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانہ پاکستان روسی میڈیا اداروں کو پاکستان کی وزارتِ ثقافت، میڈیا تنظیموں، نجی شعبے، فنکاروں اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سفارت خانے میں آویزاں پاکستانی فن پارے ملک کی ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتے ہیں اور پاکستان اپنی ثقافت، فنون، موسیقی، ادب، شاعری اور سیاحت کو روس میں مزید متعارف کرانے کا خواہاں ہے۔

ثقافت اور عوامی روابط تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں

سفیر پاکستان نے کہا کہ کسی بھی ملک کو اس کی ثقافت، زبان، ادب، موسیقی، فن اور کھانوں کو سمجھے بغیر مکمل طور پر نہیں جانا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ زمانۂ طالب علمی میں انہوں نے ٹالسٹائی، چیخوف، پشکن، گورکی اور دوستوئیفسکی سمیت روسی ادیبوں کا مطالعہ کیا تھا اور اس وقت انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ مستقبل میں روس میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ روس میں پاکستانی فنکاروں کی نمائشوں اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں روسی ثقافت، ادب اور فن کو بھی متعارف کرانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

سفیر فیصل نیاز ترمذی نے پاکستانی مصور صادقین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روسی فنکاروں اور ماہرینِ فن میں بھی پاکستانی مصوری، خطاطی اور شاعری کے حوالے سے دلچسپی موجود ہے۔

پاکستان روس کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کا خواہاں

نشست کے اختتام پر سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ خارجہ پالیسی صرف حکومتی سطح کے روابط تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تجارت، تعلیم، سیاحت، ثقافت، میڈیا اور عوامی سطح پر روابط بھی دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ براہ راست فضائی رابطے، ویزا کے عمل میں سہولت، طلبہ کے تبادلے، مشترکہ میڈیا منصوبے، ثقافتی سرگرمیاں اور تجارتی تعاون پاکستان اور روس کے تعلقات کو نئی جہت دے سکتے ہیں۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ سیاست اور دفاع کے علاوہ تجارت، توانائی، تعلیم، ثقافت، سیاحت، علاقائی روابط اور عوامی سطح کے تعلقات پر مشتمل ایک متوازن، طویل المدتی اور کثیرالجہتی شراکت داری کا خواہاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں