محبت کی جستجو: کراچی میں امریکی خاتون کا پرتجسس معاملہ، پاکستانی عاشق نے چھوڑ دیا

کراچی (وائس آف رشیا) ایک امریکی خاتون جو ایک پاکستانی شخص کے تعاقب میں کراچی پہنچنے کے بعد میڈیا کے طوفان میں گھری ہیں، نے اس ہفتے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ان سے دھوکہ ہوا ہے لیکن وہ ابھی پاکستان میں ہی رہنا چاہتی ہیں اور انہیں ایک ہفتہ وار الاؤنس دیا جائے۔ وہ آن لائن دوستی کے بعد جس پاکستانی لڑکے کی محبت میں یہاں پہنچی ہیں، اس نے ان سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لڑکے کا ٹھکانہ فی الحال نامعلوم ہے۔ انیس سالہ عاشق نے کہا، میرے گھر والے نہیں مانتے.

رابنسن کی کہانی اس وقت منظرِ عام پر آئی جب مقامی کارکن اور یوٹیوبر ظفر عباس نے انہیں سوشل میڈیا پر عام کیا۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اس کے زائد المیعاد ویزے میں توسیع اور گھر واپسی کے سفر کا بندوبست کرنے کے لیے مداخلت کی۔

تاہم سٹیشن ہاؤس آفیسر کلیم خان موسیٰ کے مطابق رابنسن نے اس ہفتے پرواز میں سوار ہونے سے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے وہ ٹیکسی لے کر میمن کے اپارٹمنٹ چلی گئیں جس کے پارکنگ ایریا میں وہ جمعرات کو تقریباً 30 گھنٹے رکیں۔ پھر چھیپا کی خیراتی پناہ گاہ روانہ ہو گئیں جہاں ان کی امریکہ واپسی تک رکنے کی امید ہے۔

جب میمن کے ساتھ ان کے تعلق اور اس کی گمشدگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے میڈیا کو بتایا، “یہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ میں اسے راز رکھتی ہوں۔۔ میں کبھی بھی دھوکہ نہیں محسوس کر سکتی۔ میرا مطالبہ آج اخبار میں [اشتہار] دینا ہے کہ آپ ہمیں کل یا اس ہفتے کے آخر تک پیسے دیں گے۔ ہمیں 50,000 ڈالر کی ضرورت ہے۔”

یہ واضح نہیں تھا کہ وہ کس سے رقم مانگ رہی تھیں، حکومتِ پاکستان سے یا میمن سے۔

کراچی کے حکام نے بتایا ہے کہ خاتون نے میمن کے خلاف کوئی باقاعدہ شکایت درج نہیں کرائی تھی۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عارف عزیز نے کہا، “ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایک امریکی خاتون ایک مقامی شخص سے تعلق کی بنا پر عمارت میں موجود ہے۔ نوجوان گھر سے نکل کر غائب ہو گیا ہے لیکن چونکہ اس معاملے میں کوئی شکایت نہیں ہے اور یہ ذاتی معاملہ ہے اس لیے ہماری ذمہ داری صرف خاتون کو تحفظ فراہم کرنے تک محدود ہے۔”

کراچی میں امریکی قونصل خانے کے ترجمان نے کہا کہ مشن صورتِ حال سے واقف تھا لیکن رازداری کے قوانین کی وجہ سے کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا، یہ صوبہ سندھ کے مقامی حکام کا معاملہ ہے۔

دریں اثناء متعدد پاکستانی مرد رابنسن سے شادی کے پیغامات کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔

ایک شخص محمد اسماعیل نے کہا، اگر وہ یہاں آباد ہونا چاہتی ہیں تو میں نے گلشنِ معمار میں ایک نیا گھر خرید لیا ہے۔ میں انہیں وہاں رہائش دوں گا اور 5,000 ڈالر بھی۔ ان سے بیوفائی اور دھوکہ ہوا ہے۔ ایک وعدہ ٹوٹ گیا ہے لیکن ہم ان کو بطورِ مہمان خوش آمدید کہتے ہیں۔”

62 سالہ شریف شیرانی نے کہا کہ وہ رابنسن سے شادی کرنے اور ان کے ساتھ امریکہ جانے کے لیے تیار ہیں اگر وہ انہیں 50,000 ڈالر ادا کر دیں۔

انہوں نے کہا، “میرا مطالبہ 50,000 ڈالر ہے۔ میں ان کے ساتھ جا سکتا ہوں لیکن وہ نہیں مانے گی کیونکہ وہ تو خود خالی ہاتھ رہ گئی ہے، وہ مجھے کیا دے گی؟ وہ تو خود پیسے مانگ رہی ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں