ماسکو(وائس آف رشیا) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف آج آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیحون بایراموف سے ملاقات کریں گے، جو دو روزہ سرکاری دورے پر روس پہنچے ہیں۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، جنوبی قفقاز کی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ روس اور آذربائیجان کے تعلقات کی موجودہ صورتحال، مستقبل میں تعاون کے امکانات اور اہم علاقائی و عالمی معاملات پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔
روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پر مبنی سیاسی مکالمے کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق آذربائیجان جنوبی قفقاز اور بحیرہ کیسپین کے خطے میں روس کا ایک اہم شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات روایتی دوستی، اچھے ہمسایہ تعلقات، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ کے اصولوں پر استوار ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو اور باکو کے درمیان اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطے جاری ہیں اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان 150 سے زائد بین الاقوامی قانونی معاہدے طے پا چکے ہیں۔
روسی وزارت خارجہ نے 3+3 علاقائی تعاون پلیٹ فارم کو بھی اہم قرار دیا، جس میں روس، ایران، ترکیہ، آذربائیجان، آرمینیا اور جارجیا شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مقصد خطے کے مسائل کا حل خطے کے ممالک کی باہمی کوششوں سے نکالنا اور بیرونی مداخلت سے گریز کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ روس جنوبی قفقاز میں امن و استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانے، امن معاہدے، سرحدوں کے تعین اور ٹرانسپورٹ راہداریوں کی بحالی کے عمل میں تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اقتصادی تعاون کے حوالے سے روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ آذربائیجان میں روس کی مجموعی سرمایہ کاری 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ آذربائیجان میں روس کے سرمائے سے قائم 1,400 سے زائد کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جبکہ VTB Bank، Lukoil، KAMAZ، GAZ Group، Sollers اور AvtoVAZ سمیت متعدد بڑی روسی کمپنیاں بھی وہاں سرگرم ہیں۔
بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون بھی مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ اس وقت 9 ہزار سے زائد آذربائیجانی طلبہ روس میں زیر تعلیم ہیں، جن میں سے ایک ہزار سے زیادہ طلبہ کی تعلیم کے اخراجات روسی وفاقی بجٹ سے ادا کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہر سال تقریباً 280 سرکاری وظائف بھی آذربائیجان کے طلبہ کو روسی جامعات میں تعلیم کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔









