یوکرین میں حکومتی تبدیلیاں روس کے لیے بنیادی اہمیت نہیں رکھتیں، مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہیں: کریملن

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن نے کہا ہے کہ یوکرین میں کابینہ کی حالیہ تبدیلیاں روس کے لیے بنیادی اہمیت نہیں رکھتیں، جبکہ ماسکو یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کے راستے پر چلنے کے لیے بدستور تیار ہے، اگرچہ فوری طور پر بات چیت کی بحالی کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ روس خصوصی فوجی آپریشن کے تناظر میں یوکرین کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم کیف میں حکومتی ردوبدل سے روس کے مؤقف میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ روس کے لیے اہم بات یہ نہیں کہ یوکرین کا وزیر دفاع کون بنتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیف میں ایسے افراد موجود ہوں جو تنازع کے پرامن حل کے لیے ضروری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

پیسکوف نے کہا کہ روس کو فوری طور پر یوکرین مذاکرات کی بحالی کے امکانات دکھائی نہیں دیتے، تاہم ماسکو مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یوکرین تنازع کے حل میں ثالثی کے لیے ترکی کی مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ روس اس حوالے سے ترک قیادت کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے روس کے ساتھ سیاحتی شعبے میں تعاون پر عائد نئی پابندیوں کے بارے میں کریملن کے ترجمان نے کہا کہ یہ اقدامات حیران کن نہیں، کیونکہ یورپی یونین مختلف شعبوں میں پہلے ہی روس پر متعدد پابندیاں عائد کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کے باوجود روس آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً چین، عرب ممالک اور خلیجی خطے سے آنے والے سیاحوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جو روسی معیشت، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے مثبت ثابت ہو رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پیسکوف نے کہا کہ روس دیگر ممالک کے ساتھ مل کر خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش رکھتا ہے، کیونکہ اس کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایران نے صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلیفونک رابطے کی کوئی درخواست نہیں کی، تاہم روسی حکام ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

پیسکوف نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران اور یوکرین کے تنازعات کا ایک دوسرے سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر تنازع اپنی نوعیت اور حالات کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے اور اس کا حل بھی جامع اور طویل المدتی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

روسی معیشت کے بارے میں کریملن کے ترجمان نے کہا کہ صدر پوتن اور حکومت باقاعدگی سے اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق روس کی میکرو اکنامک صورتحال مجموعی طور پر مستحکم ہے، اگرچہ معیشت کو بعض مشکلات کا سامنا ہے، لیکن وہ سنگین نوعیت کی نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس کی اقتصادی ترقی کی رفتار مطلوبہ سطح پر نہیں، تاہم عالمی معیشت بھی مختلف تنازعات، خصوصاً خلیج فارس کی صورتحال، کے باعث دباؤ کا شکار ہے، اس لیے روس بھی عالمی اقتصادی رجحانات سے مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں