زیلنسکی کے خط پر پوتن کا ردعمل، روسی فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا “کام جاری رکھو بھائیو”

سینٹ پیٹرزبرگ (شاہد گھمن سے) روسی صدر پوتن نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے حالیہ خط پر ردعمل دیتے ہوئے روسی فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پوری روسی قوم اپنے فوجیوں پر فخر کرتی ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) کے مرکزی پلینری اجلاس کے دوران صدر پوتن سے زیلنسکی کے خط کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں خط کے مصنفین یا “خط و کتابت کے شوقین افراد” کو جواب دینے کے بجائے روسی فوجیوں سے مخاطب ہونا زیادہ مناسب ہے۔

صدر پوتن نے کہا کہ ساتھی سپاہیو، ملاحو، افسران، ایڈمرلز اور جرنیلو، پوری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے، پوری قوم آپ پر فخر کرتی ہے اور آپ سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر روسی صدر نے فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “کام جاری رکھو بھائیو۔”

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق صدر پوتن نے زیلنسکی کا کھلا خط پڑھ لیا ہے جسے حال ہی میں میڈیا میں شائع کیا گیا تھا۔ پیسکوف کا کہنا تھا کہ اگر یوکرینی صدر واقعی روسی صدر سے ملاقات کے خواہاں ہیں تو وہ کسی بھی وقت ماسکو آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب روسی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں بھی خط پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ روسی پارلیمان کے بعض ارکان نے خط کو امن مذاکرات کی سنجیدہ کوشش کے بجائے سیاسی اور تشہیری اقدام قرار دیا ہے، جبکہ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا ہے کہ خط کا مناسب جواب متعلقہ سطح پر دیا جائے گا۔

زیلنسکی کے خط کا موضوع اور اس پر روسی ردعمل فورم کے موقع پر بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں