ماسکو(وائس آف رشیا) روس نے لتھوانیا کی جانب سے دوسری جنگِ عظیم میں ہلاک ہونے والے سوویت فوجیوں کی یادگار اور تدفینی مقام کو مسمار کرنے کے منصوبے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لتھوانیا کی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر لیا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق یکم جون کو لتھوانیا کی ناظم الامور یولانتا توبائتے کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں لتھوانیا کے حکام کے حالیہ اقدامات پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ لتھوانیا کے شہر ویویس میں ان سوویت فوجیوں اور افسران کی اجتماعی قبر کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جو نازی افواج سے لتھوانیا کی آزادی کے دوران لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ ماسکو نے اس اقدام کو “غیر انسانی” اور “تاریخی یادگاروں کی بے حرمتی” قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ روس نے 30 اپریل کو بھی لتھوانیا کے شہر شاولیائے میں واقع سوویت فوجیوں کی تدفینی جگہ کے خلاف کیے جانے والے اسی نوعیت کے اقدامات پر احتجاج کیا تھا، تاہم ولنیئس کی جانب سے ایسے اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ لتھوانیا میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قبروں اور یادگاروں کے خلاف مہم تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو نہ صرف تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے بلکہ جنگ میں جان قربان کرنے والوں کی یاد کی توہین بھی ہے۔
ماسکو نے لتھوانیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوجی یادگاروں اور تدفینی مقامات کے تحفظ سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے اور ان مقامات کو نقصان پہنچانے کے اقدامات فوری طور پر روک دے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق روس اور بالٹک ممالک کے درمیان تاریخی یادگاروں اور سوویت دور کے ورثے کے حوالے سے اختلافات حالیہ برسوں میں مسلسل شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جس کے باعث دونوں فریقوں کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔









