ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن اور آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پاشینیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں یوریشین اقتصادی یونین (EAEU) میں آرمینیا کی رکنیت اور اس سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو آستانہ میں منعقدہ اعلیٰ یوریشین اقتصادی کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے کا تسلسل تھی۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں یوریشین اقتصادی یونین میں آرمینیا کی موجودہ حیثیت اور چار رکن ممالک کے رہنماؤں کے مشترکہ بیان سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔
پیسکوف کے مطابق یوریشین اقتصادی یونین کے رہنماؤں کے مشترکہ اعلامیے میں طے کیا گیا ہے کہ یونین میں آرمینیا کی رکنیت سے متعلق تمام پہلوؤں اور معاملات کا جائزہ رواں سال دسمبر تک مکمل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے متعلقہ ادارے اپنی سفارشات اور رپورٹس یونین کے سربراہان کو پیش کریں گے۔
دوسری جانب کریملن نے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں پر بھی تبصرہ کیا۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ کریملن کی روایت رہی ہے کہ فورم کے مہمانِ خصوصی یا صدر پوتن کے ساتھ مرکزی اجلاس کی میزبانی کرنے والی شخصیت کا نام پہلے سے ظاہر نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ فورم کے اہم شرکاء اور خصوصی مہمانوں سے متعلق معلومات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔
روس اور آسیان ممالک کے مجوزہ سربراہی اجلاس کے حوالے سے پیسکوف نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی قازان میں متوقع روس۔آسیان سربراہی اجلاس میں شرکت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
لتھوانیا کی جانب سے اس دعوے پر کہ بالٹک ممالک یوکرین کو روس کے خلاف حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہے، کریملن کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ روسی فوجی ماہرین کو لینا چاہیے کیونکہ درست معلومات اور تکنیکی اعداد و شمار انہی کے پاس موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے معاملات پر حتمی رائے فوجی ماہرین ہی دے سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پوتن اور پاشینیان کے درمیان رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آرمینیا کے یورپی یونین کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اور یوریشین اقتصادی یونین میں اس کے مستقبل کے حوالے سے مختلف سوالات زیر بحث ہیں۔









