یورپی یونین کی 2.4 ارب یورو قسط خطرے میں، یوکرین 6 اہم شرائط پوری نہ کر سکا

ماسکو(وائس آف رشیا) یوکرین 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران یورپی یونین کے “یوکرین فیسلٹی” پروگرام کے تحت 2.4 ارب یورو کی مالی قسط حاصل کرنے کے لیے مقرر کردہ 6 اہم شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین مطلوبہ اصلاحات اور قانون سازی کے متعدد اقدامات مکمل نہ کر سکا، جنہیں یورپی یونین کی جانب سے مالی امداد کے اجراء کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا۔

یوکرین جن شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہا ان میں انسانی وسائل کے انتظام کے جدید معلوماتی نظام کا آغاز، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے دیوالیہ پن کے قوانین میں آسانی پیدا کرنے والی قانون سازی، اور اعلیٰ سطحی پراسیکیوٹرز کے شفاف انتخاب سے متعلق قانون کی منظوری شامل ہیں۔

اس کے علاوہ یوکرین سرکلر اکانومی کے اصولوں کے نفاذ کی حکمت عملی تیار کرنے، مرکزی حکومت اور مقامی اداروں کے اختیارات کی واضح تقسیم مکمل کرنے اور یوٹیلٹی انفراسٹرکچر نیٹ ورکس سے کنکشن کے حوالے سے قانون سازی کرنے میں بھی ناکام رہا۔

دوسری جانب یوکرین کا قومی بجٹ گزشتہ کئی برسوں سے ریکارڈ خسارے کا شکار ہے۔ کیف حکومت پہلے ہی اعتراف کر چکی ہے کہ ملک کے اپنے مالی وسائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور بیرونی مالی معاونت حاصل کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مغربی شراکت داروں نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس اصلاحات سمیت اپنے مالی وسائل بڑھانے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرے تاکہ بیرونی امداد پر انحصار کم کیا جا سکے۔

سابق یوکرینی وزیراعظم نکولائی آزاروف کا کہنا ہے کہ مغربی قرضوں اور مالی امداد کے بغیر یوکرین کے لیے موجودہ ریاستی ڈھانچے کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یورپی یونین کی شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں یوکرین کو آئندہ مالی امداد کے حصول میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ جنگی حالات میں ملک کی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں