روس اور قازقستان کے تعلقات نئی بلندیوں کی جانب، صدر پوتن کا آستانہ میں تعمیری تعاون پر زور

آستانہ (وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن دو روزہ سرکاری دورے پر جمہوریہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر پوتن اس دورے کے دوران اعلیٰ یوریشین اقتصادی کونسل کے اجلاس اور یوریشین اقتصادی فورم میں بھی شرکت کر رہے ہیں۔

آستانہ کے صدارتی محل “دولتِ استقلال” میں روسی صدر کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں قازقستان کے ثقافتی فنکاروں نے روایتی موسیقی اور رقص پیش کیا، جبکہ فضائیہ کے جنگی طیاروں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور قازق صدر قاسم جومارت توقایف نے ایک دوسرے کا خیر مقدم کیا اور دونوں ممالک کے سرکاری وفود کا تعارف کرایا۔ اس موقع پر روس اور قازقستان کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان “دولتِ استقلال” میں اہم مذاکرات ہوئے۔ ابتدائی ملاقات محدود سطح پر ہوئی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ ان مذاکرات میں تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور یوریشین خطے میں مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس اور قازقستان مختلف بین الاقوامی تنظیموں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جو عالمی سطح پر تعمیری شراکت داری کی بہترین مثال ہے۔

روسی صدر نے کہاکہ یوریشین اقتصادی یونین، اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم، دولتِ مشترکہ آزاد ریاستیں، شنگھائی تعاون تنظیم، برکس، اقوام متحدہ اور روس۔وسطی ایشیا فارمیٹ میں ہماری مشترکہ سرگرمیاں عالمی امور میں تعمیری تعاون کی روشن مثال ہیں۔

صدر پوتن نے قازق صدر قاسم جومارت توقایف کا دورے کی دعوت دینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں نہایت مفید ثابت ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ کا دعوت دینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ ہماری یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوں گی۔

روسی صدر نے اعلیٰ یوریشین اقتصادی کونسل کے آئندہ اجلاس کی تیاریوں پر قازقستانی حکومت کی کوششوں کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں یوریشین خطے میں انضمامی عمل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

صدر پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ روس اور قازقستان تمام شعبوں میں فعال انداز میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔

مذاکرات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس اور قازقستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دی جائے گی اور باہمی اقتصادی و سیاسی تعاون کو نئی جہت دی جائے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر پوتن کا یہ دورہ نہ صرف روس اور قازقستان کے دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے یوریشین خطے میں اقتصادی اور سفارتی تعاون کے فروغ کے لیے بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں