ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن 27 سے 29 مئی تک قازقستان کا اہم سرکاری دورہ کریں گے، جس کے دوران روس اور قازقستان کے درمیان جوہری توانائی، تجارت، دفاع، معیشت اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں 16 اہم معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق پوتن کا یہ دورہ یوریشین اکنامک یونین (EAEU) سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوگا، جبکہ قازق صدر قاسم جومارت توکایف خود 27 مئی کو آستانہ ایئرپورٹ پہنچ کر روسی صدر کا استقبال کریں گے۔
یوری اوشاکوف نے کہا کہ اگرچہ سفارتی روایت کے مطابق ایک صدارتی مدت میں صرف ایک سرکاری دورہ ہوتا ہے، تاہم پوتن کا یہ دوسرا سرکاری دورہ روس اور قازقستان کے “غیر معمولی قریبی تعلقات” کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صدر توکایف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان 38 ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
کریملن کے مطابق روسی وفد میں 30 سے زائد اعلیٰ حکام شامل ہوں گے جبکہ نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
اوشاکوف نے بتایا کہ دورے کے دوران قازقستان کے پہلے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر سے متعلق اہم معاہدے پر بھی دستخط ہوں گے، جس میں روسی سرکاری کمپنی روس ایٹم شریک ہوگی۔ منصوبے کی مالی معاونت روسی سرکاری ایکسپورٹ قرض کے ذریعے کی جائے گی۔
دورے کے دوران روس اور قازقستان کے درمیان سیاسی، اقتصادی، فوجی تکنیکی، ثقافتی اور انسانی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت ہوگی۔
پوتن 28 مئی کو پانچویں یوریشین اکنامک فورم سے بھی خطاب کریں گے، جس کا مرکزی موضوع “عالمی ڈیجیٹل دوڑ میں EAEU اور مصنوعی ذہانت” رکھا گیا ہے۔
کریملن کے مطابق روس فورم میں 400 رکنی وفد کے ساتھ شرکت کرے گا جس میں کاروباری شخصیات، سائنسدان اور ماہرین شامل ہوں گے۔
یوری اوشاکوف نے بتایا کہ روس اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم 2025 میں ریکارڈ 29 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ قازق معیشت میں روسی سرمایہ کاری 29.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔









