دنیا بھر میں فوجی اور سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی، پوتن کا انتباہ

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں فوجی اور سیاسی صورتحال نمایاں طور پر مزید پیچیدہ ہو چکی ہے جبکہ دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (CIS) کے ممالک کی سرحدوں کے قریب عدم استحکام کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔

روسی صدر نے یہ بات سی آئی ایس کونسل آف ہیڈز آف سیکیورٹی ایجنسیز اور اسپیشل سروسز کے 58ویں اجلاس کے شرکاء سے خطاب میں کہی۔

پوتن نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے جبکہ مختلف خطوں میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سیکیورٹی اداروں کو اپنی تجزیاتی، آپریشنل، تکنیکی اور افرادی صلاحیتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا تاکہ داخلی اور خارجی خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹا جا سکے۔

روسی صدر کے مطابق سی آئی ایس ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، مشترکہ حکمت عملی اور قریبی تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پوتن نے کہا کہ اجلاس میں دہشتگردی، انتہاپسندی، سرحد پار منظم جرائم، سائبر کرائم اور دیگر سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے مؤثر طریقوں پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اجلاس کے نتائج سی آئی ایس ممالک اور ان کے عوام کے محفوظ اور مستحکم مستقبل کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں