روس کا بڑا جوابی حملہ، اوریشنک اور کنزال میزائلوں نے یوکرینی دفاعی نظام کو چیر دیا

ماسکو(وائس آف رشیا) روس نے یوکرین کی جانب سے روسی شہری تنصیبات پر حملوں کے جواب میں بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں اوریشنک، اسکندر، کنزال اور تسرکون ہائپرسونک میزائل استعمال کیے گئے۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق حملوں میں یوکرین کے فوجی کمانڈ سینٹرز، ایئربیسز، دفاعی صنعتوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تمام اہداف کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔

روسی حکام کے مطابق حملوں میں اوریشنک ہائپرسونک میزائل، اسکندر بیلسٹک میزائل، کنزال ایئر لانچڈ میزائل، تسرکون ہائپرسونک کروز میزائل اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل استعمال کیے گئے۔

حملوں کے بعد کیف اور اس کے گردونواح میں متعدد دھماکوں اور آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

یوکرینی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی حملوں کے دوران یوکرینی فضائی دفاعی نظام مؤثر ردعمل دینے میں ناکام رہا اور کئی میزائل براہِ راست اپنے اہداف تک پہنچے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یوکرینی فضائیہ کنزال اور تسرکون جیسے جدید ہائپرسونک میزائلوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق امریکی ساختہ فضائی دفاعی نظام کے لیے انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی یوکرین کی بڑی مشکل بن چکی ہے، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق یوکرینی فوج میزائل ذخائر بچانے کی حکمت عملی بھی اختیار کر رہی ہے۔

یوکرینی میڈیا کے مطابق حملوں کے دوران کیف میں کئی سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ مختلف علاقوں میں آگ لگنے اور تباہی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک عمارت، جہاں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے اپارٹمنٹس موجود ہیں، دھماکوں کے باعث متاثر ہوئی، تاہم نقصان کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔

روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی یوکرین کی جانب سے روسی شہری تنصیبات پر “دہشتگرد حملوں” کے جواب میں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں