نیویارک(وائس آف رشیا) امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن روسی تیل اور اس سے تیار شدہ مصنوعات کی خریداری کے لیے دی گئی رعایت میں مزید توسیع نہیں کرے گا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ سمندر میں موجود روسی تیل کی بڑی مقدار پہلے ہی فروخت ہو چکی ہے، اس لیے نئی توسیع کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ ایرانی تیل کی خریداری کے لیے بھی کوئی نئی عمومی اجازت جاری کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق ایران کے حوالے سے سخت پالیسی برقرار ہے اور تیل کی برآمدات محدود ہیں۔
واضح رہے کہ 12 مارچ کو امریکی محکمہ خزانہ نے اس تاریخ سے قبل جہازوں پر لوڈ کیے گئے روسی تیل اور تیل مصنوعات کی فروخت کے لیے پابندیوں میں نرمی دی تھی۔ بعد ازاں 19 مارچ کو اس اجازت نامے میں ترمیم کرتے ہوئے بعض روسی علاقوں، شمالی کوریا اور کیوبا کے ساتھ لین دین پر پابندی عائد کی گئی۔
یہ اجازت نامہ 11 اپریل کو ختم ہو گیا تھا، تاہم 17 اپریل کو جاری کردہ ایک نئے لائسنس کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ روسی تیل کی فروخت، نقل و حمل اور ان لوڈنگ کی اجازت 16 مئی تک دی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق روسی اور ایرانی تیل کے حوالے سے پابندیوں میں مزید نرمی کا کوئی ارادہ نہیں۔









