پاکستان اور روس نے 2030 تک اقتصادی تعاون کے پروگرام پر اتفاق کر لیا، تعلقات نئی بلندیوں کی جانب گامزن

ماسکو(وائس آف رشیا) پاکستان اور روس نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ سازی کو فروغ دینے کے لیے 2030 تک اقتصادی تعاون کے جامع پروگرام کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنا کر خطے میں استحکام اور اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

یہ بات ماسکو میں “پاکستان۔روس دوطرفہ تعلقات بدلتے ہوئے عالمی نظام کے تناظر میں” کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی ویبینار میں سامنے آئی، جس کا اہتمام یونیورسٹی آف ورلڈ سیولائزیشنز، ماسکو نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے اشتراک سے کیا۔

ویبینار کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر توانائی اور پاکستان۔روس تعلقات کے فوکل پرسن سردار اویس احمد خان لغاری تھے۔ پاکستان کی جانب سے سابق سفیر مسعود خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، سفیر جوہر سلیم اور معروف صحافی طلعت حسین نے شرکت کی۔

روسی شرکاء میں اسپوتنک انٹرنیشنل اور رشیا ٹوڈے کے ڈائریکٹر دیمتری الیگزینڈر، روسی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کی سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر نتالیہ زامارائیوا اور “ڈپلومیسی آف پیپلز، پارٹنرشپ آف سیولائزیشنز” سائنسی مرکز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر روکسولانا یوریوینا ژیگون شامل تھیں۔

اپنے خطاب میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات میں نمایاں مثبت تبدیلی آئی ہے اور دونوں ممالک تاریخی بداعتمادی سے نکل کر ایک مضبوط اور عملی شراکت داری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اعلیٰ سطحی سیاسی روابط میں اضافہ ہوا ہے، جس کی عکاسی وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی متعدد ملاقاتوں سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس۔پاکستان بین الحکومتی کمیشن (IGC) دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا بنیادی پلیٹ فارم ہے اور توانائی، تجارت، دفاع، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے 2030 تک اقتصادی تعاون کے پروگرام پر اتفاق کیا ہے، جس کے ذریعے تجارت میں حائل رکاوٹوں، بالخصوص ادائیگیوں اور بینکاری نظام سے متعلق مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔

اویس لغاری نے کہا کہ حال ہی میں دستخط ہونے والا روس۔پاکستان ریڈمیشن معاہدہ ویزا سہولتوں، کاروباری روابط اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) میں شمولیت کا خواہاں ہے اور گوادر بندرگاہ کو اس منصوبے سے جوڑنے کی حمایت کرتا ہے، جس سے علاقائی تجارت اور رابطہ سازی کو نئی جہت ملے گی۔

روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور روس کے پاس تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا ایک تاریخی موقع موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 47 برس بعد امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا، جس سے عالمی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ہے۔

سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ سکیورٹی، علاقائی رابطہ سازی، تجارتی سہولت کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم، سڑک، ریل اور فضائی روابط مستقبل کے پاک۔روس تعلقات کے اہم ستون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو مشترکہ اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے حصول کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنا چاہیے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون نے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے، جبکہ دیگر شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

سابق سفیر مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان موجودہ تجارتی حجم، جو تقریباً 1.3 ارب ڈالر ہے، میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کی بدولت روس کے لیے بحیرہ عرب تک رسائی کا ایک اہم دروازہ بن سکتا ہے۔

ویبینار کے دوران شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور وسیع یوریشیائی خطے کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ روس خطے میں اقتصادی اور تزویراتی استحکام کا ایک اہم شراکت دار ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، تعلیم، ٹیکنالوجی، انسداد دہشت گردی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جانا چاہیے۔

روسی شرکاء نے وزیراعظم پاکستان کے متوقع دورہ روس کو دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی روابط مستقبل میں پاکستان اور روس کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ویبینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے یوریشیائی خطے میں اقتصادی ترقی، علاقائی رابطہ سازی، استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں