روسی سفارتخانے کی پاکستانی میڈیا کو بریفنگ، اسٹاروبیلسک حملے کو سنگین دہشت گردی قرار دیا گیا

اسلام آباد(شہریار شاہد) پاکستان میں روسی سفارت خانے نے 9 جون کو یوکرین کی صورتحال کے حوالے سے ایک ہنگامی پریس بریفنگ کا انعقاد کیا، جس میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے پاکستانی میڈیا نمائندوں کو روسی مؤقف اور حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔

روسی سفیر نے کہا کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے شہر اسٹاروبیلسک میں ایک ہاسٹل اور تدریسی کالج کی عمارت پر گولہ باری کی گئی، جس کے نتیجے میں 23 سال سے کم عمر 21 نوجوان ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ روس نے اس حملے کو انتہائی سنگین اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کے بعد اپنی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔

البرٹ خوریف کے مطابق ماسکو نے فیصلہ کیا ہے کہ یوکرین میں روسی فوجی کارروائیاں اب ایک نئی سطح پر لے جائی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ روسی حملوں کا مرکز یوکرین کے فیصلہ سازی کے مراکز، فوجی کمانڈ پوسٹس اور دفاعی صنعت سے وابستہ تنصیبات ہوں گی، جن میں دارالحکومت کیف کے اہداف بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں مستقل، منظم اور مرحلہ وار انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔

پریس بریفنگ کے دوران روسی سفیر نے زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ اور اینرگودار شہر پر ہونے والے حالیہ حملوں کی بھی شدید مذمت کی اور انہیں انتہائی خطرناک قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں نہ صرف خطے بلکہ پورے یورپ کے لیے جوہری سلامتی کے حوالے سے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ینی کیئیوو اور گینیچیسک شہروں پر ڈرون حملے بھی تشویش کا باعث ہیں، جبکہ روسی حکام کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) کی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کی کوششیں بھی کی گئیں، جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔

روسی سفیر نے زور دیا کہ ماسکو اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا اور یوکرین میں جاری تنازع کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

مبصرین کے مطابق روس کی جانب سے فوجی کارروائیوں کے اہداف میں اس تبدیلی کا اعلان یوکرین تنازع میں ایک نئی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس کے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں