ماسکو(شاہد گھمن سے) روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھیجا گیا خط عالمی سطح پر جاری کرنا سفارتی آداب کے منافی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین مذاکرات میں حقیقی دلچسپی نہیں رکھتا۔
ماسکو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ اگر خط واقعی صدر پوتن کے نام تھا تو اسے پوری دنیا میں نشر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے بقول، “مہذب لوگ اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کرتے۔” انہوں نے کہا کہ روسی صدر نے بھی اس اقدام کو اس بات کی علامت قرار دیا ہے کہ کیف حکومت مذاکرات کے بجائے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو اب بھی یوکرین کے ساتھ دیانت دار، شفاف اور بغیر کسی دھوکے کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ امریکہ روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی سابقہ مفاہمتوں کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں دکھا رہا۔
لاوروف نے کہا کہ روس ان اصولی سمجھوتوں پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے، لیکن امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیان نے تشویش پیدا کر دی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ یوکرین کی حمایت کے باعث ثالث کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس سمیت دیگر یورپی رہنماؤں نے بھی اسی قسم کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں فیصلہ کن کردار میدان جنگ میں ہونے والی پیش رفت ادا کر رہی ہے۔ لاوروف کے مطابق صدر پوتن پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اب بہت کچھ محاذ پر ہونے والے واقعات پر منحصر ہے۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے یوکرین کو مزید طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے لاوروف نے کہا کہ ایسے اقدامات مذاکراتی عمل کے امکانات کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق لندن میں ہونے والے اجلاس کے دوران ان ممالک کے رہنماؤں اور زیلنسکی نے یوکرین کے لیے اضافی فوجی امداد اور مستقبل میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی جیسے امور پر اتفاق کیا، جس کے بعد مذاکرات کی بات کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس غیر جانبداری کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یوکرین کے معاملے پر مغربی مؤقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سیکریٹری جنرل کا غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔
لاوروف نے بتایا کہ چلی کی سابق صدر مشیل باشلیٹ اس وقت ماسکو میں موجود ہیں اور ان کے ساتھ اقوام متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کے ممکنہ امیدوار کے طور پر ملاقات کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس کو کسی خاتون کے اقوام متحدہ کی سربراہی سنبھالنے پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ اس خیال کی حمایت کرتا ہے۔
روسی وزیر خارجہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یوکرین تنازع، مغربی عسکری امداد اور ممکنہ امن مذاکرات عالمی سفارت کاری کے اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ روس کا مؤقف ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو مسلسل فوجی مدد فراہم کیے جانے سے مذاکرات کی راہ مزید دشوار ہو رہی ہے۔









