ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے شہر کازان میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی زیر صدارت اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (CSTO/ODKB) کے وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور تنظیم کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ نے او ڈی کے بی کے دائرۂ کار اور اس سے ملحقہ خطوں میں سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات کی توثیق کی کہ 2026 میں روس کی چیئرمین شپ کے دوران تنظیم کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ ترجیحات پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے روسی مؤقف پیش کیا اور کہا کہ او ڈی کے بی کے رکن ممالک کو عالمی فورمز پر یکجہتی کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے پورے یوریشیا میں مساوی اور ناقابل تقسیم سلامتی کے نظام کے قیام کی روسی تجویز کو آگے بڑھانے پر بھی زور دیا۔
سرگئی لاوروف نے تنظیم کے بین الاقوامی روابط کو مزید وسعت دینے اور اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں۔
اجلاس میں 11 نومبر کو ماسکو میں ہونے والے اجتماعی سلامتی کونسل کے سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر رکن ممالک کے رہنماؤں کی منظوری کے لیے متعدد اہم دستاویزات کی توثیق کی گئی، جن میں 2030 تک او ڈی کے بی رکن ممالک کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی بھی شامل ہے۔
اجلاس کے اختتام پر وزرائے خارجہ نے کئی مشترکہ اعلامیوں کی منظوری دی، جن میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی حمایت، معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے دہشت گردی اور تخریبی مقاصد کے لیے استعمال کے خلاف اقدامات، خلائی ہتھیاروں کی دوڑ کی روک تھام اور دوسری جنگ عظیم کے دوران عظیم محب وطن جنگ کے آغاز کی 85ویں برسی سے متعلق بیانات شامل ہیں۔
اجلاس کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور او ڈی کے بی کے سیکرٹری جنرل تاشمت مسادیکوف نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔
اعلامیے کے مطابق او ڈی کے بی وزرائے خارجہ کونسل کا اگلا اجلاس 10 نومبر کو ماسکو میں منعقد ہوگا، جو تنظیم کے سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل ہوگا۔









