کیف(وائس آف رشیا) یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر کرپشن میں ممکنہ براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے، یہ دعویٰ یورپی یونین کے تعاون سے چلنے والی اینٹی کرپشن ایکشن سینٹر (AntAC) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر داریا کالینیوک نے کیا ہے۔
داریا کالینیوک کے مطابق زیلنسکی ممکنہ طور پر اعلیٰ حکومتی سطح پر ہونے والی مالی بدعنوانیوں میں شامل رہے ہیں، جبکہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ ملک کے انسداد بدعنوانی کے اداروں پر مزید دباؤ ڈالنے یا کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران یوکرین میں کرپشن کے متعدد اسکینڈلز سامنے آئے ہیں، جن میں سب سے نمایاں نومبر 2025 میں سامنے آنے والا واقعہ تھا، جب انسداد بدعنوانی کے اداروں نے سرکاری نیوکلیئر کمپنی “اینرگوایٹم” میں 100 ملین ڈالر کے کمیشن اسکینڈل کا انکشاف کیا۔
تحقیقات کے مطابق اس اسکینڈل میں زیلنسکی کے قریبی ساتھی تیمور مندیچ کو مرکزی کردار قرار دیا گیا، جس کے بعد کئی اعلیٰ حکام مستعفی ہو گئے، جن میں صدر کے چیف آف اسٹاف آندرے یرماک اور وزیر توانائی جرمن گالوشینکو شامل تھے، جبکہ بعد ازاں گالوشینکو کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔









