یورپ نے روسی ایل این جی کی قلیل مدتی درآمدات پر پابندی عائد کر دی

ماسکو(وائس آف رشیا) یورپی یونین کی جانب سے روس سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قلیل مدتی معاہدوں کے تحت درآمدات پر پابندی کا اطلاق 25 اپریل سے ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس پابندی کے باوجود روسی ایل این جی کی یورپ کو فروخت میں نمایاں کمی کا امکان 2027 سے قبل نہیں ہے۔

یورپی کونسل نے 26 جنوری کو باضابطہ طور پر روسی ایل این جی کی مکمل درآمد پر پابندی کی منظوری دی تھی، جو یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگی، جبکہ پائپ لائن گیس کی فراہمی پر پابندی 30 ستمبر 2027 سے نافذ العمل ہوگی۔ اسی طرح قلیل مدتی معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی 17 جون 2026 تک مکمل کرنا ہوگی۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں یورپی یونین کو ایل این جی کی فراہمی میں روس امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر رہا، جس کا حصہ تقریباً 16 فیصد تھا، جبکہ مجموعی گیس سپلائی میں روس کا حصہ تقریباً 12 فیصد رہا۔ گزشتہ سال روس کی جانب سے یورپ کو مجموعی طور پر 38 ارب مکعب میٹر گیس فراہم کی گئی، جس میں 20 ارب مکعب میٹر سے زائد ایل این جی شامل تھی۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اگر یورپی یونین روسی گیس سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتی ہے تو روس خود بھی یورپی مارکیٹ سے جلد نکلنے اور اپنی توانائی کی برآمدات دیگر ممالک کی طرف منتقل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک کے مطابق روسی کمپنیاں جلد ہی ایل این جی کی سپلائی یورپ سے ہٹا کر چین، بھارت، تھائی لینڈ اور فلپائن جیسے دوست ممالک کی جانب منتقل کر سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں