چکوال (وائس آف رشیا) سی سی ڈی نے پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان پر قیامت ڈھا دی، اہلکاروں نے ڈاکوؤں کو پکڑنے کی بجائے نہتے خاندان پر فائر کھول دیا، جس سے 9 سال کی ہانیہ جاں بحق، والد عدیل اور بھائی عفان شدید زخمی ہو گئے۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی جانب سے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی فیملی کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں نو سالہ ہانیہ جاں بحق جب کہ اس کے والد عدیل اور بھائی عفان شدید زخمی ہو گئے، یہ واقعہ ڈکیتی کے دوران پیش آیا جب 3 موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے فیملی کو اسلحے کی نوک پر لوٹا اور فرار ہو گئے۔
واقعہ سی سی ڈی کے تھانے کے مرکزی گیٹ کے پاس پیش آیا، اس دوران سی سی ڈی کے اہلکاروں کی جانب سے عدیل احمد کی گاڑی پر یہ سمجھ کر اندھا دھند فائرنگ کی گئی کہ شاید گاڑی میں ڈاکو ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کاشف ذوالفقار نے ڈاکوؤں کی گرفتاری کا حکم دیا اور علی الصبح 2 ڈاکو پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہو گئے۔ ڈاکوؤں کا تعلق شیخوپورہ اور لاہور سے بتایا جاتا ہے۔ بعد ازاں سی سی ٹی وی کی مدد سے واقعے کی جانچ پڑتال کی گئی تو سی سی ڈی کے اہلکار فائرنگ میں ملوث پائے گئے، جن میں ایک اہلکار شجاع اور دیگر نا معلوم ہیں۔
کراچی میں ڈکیتی کی انوکھی واردات کی ویڈیو سامنے آگئی
بتایا گیا کہ سی سی ڈی اہلکاروں کے پہنچنے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، ڈاکو موٹر سائیکل چھوڑ کر بہ آسانی بھاگ نکلے، جب کار سوار متاثرہ خاندان جائے وقوعہ سے جانے لگا تو سی سی ڈی اہلکاروں نے اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
پولیس ذرائع کے مطابق اہلکار سے تفتیش جاری ہے اور اس ضمن میں ایس پی انوسٹی گیشن ساجد گوندل کی سربراہی میں بنائی جانے والی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کی تحقیقات جاری ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی خبر آسٹریلوی میڈیا نے بھی نشر کی اور بتایا کہ آسٹریلیا میں آباد پاکستانی کمیونٹی بھی اس اندوہ ناک واقعہ پر سوگوار ہے۔ آسٹریلین میڈیا کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے اپنی 9 سالہ شہری حانیہ احمد کے قتل اور اس کے والد اور بھائی کے زخمی ہونے کے واقعے پر نوٹس لے لیا ہے۔
آسٹریلوی شہری عدیل اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ، بیٹے عفان اور بیٹی ہانیہ کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کر کے 2 دن قبل ہی پاکستان پہنچا تھا۔ سی سی ڈی نے سنگین جرم سے جان چھڑانے کے لیے ایک اہلکار کی گرفتاری ڈال دی۔ ڈی پی او چکوال نے واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا، اور کہا حقائق سامنے آنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔









