ماسکو (شاہد گھمن) روس اور بیلاروس نے مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے اور مالی و تکنیکی خودمختاری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے 14 اور 15 جون کو بیلاروس کے دارالحکومت منسک کے دورے سے قبل دونوں ممالک کے درمیان خارجہ پالیسی کے مختلف امور پر قریبی رابطوں اور تعاون کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ روس اور بیلاروس یوریشیائی انضمامی تنظیموں اور مختلف بین الاقوامی اداروں میں اپنی خارجہ پالیسیوں میں ہم آہنگی کو مزید فروغ دیں گے، جبکہ تیسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
بیان کے مطابق دونوں ممالک مغرب کی جانب سے عائد پابندیوں اور قانونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ یوریشیا میں مساوی اور ناقابلِ تقسیم سلامتی کے نئے نظام کے قیام اور اکیسویں صدی کے لیے “یوریشین چارٹر برائے تنوع اور کثیر قطبی نظام” کی تیاری سے متعلق پیش رفت بھی زیر غور آئے گی۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ اجتماعی مغرب کی جانب سے شروع کی گئی پابندیوں کی جنگ کے تناظر میں ماسکو اور منسک غیر قانونی اقتصادی پابندیوں کے اثرات کم کرنے، مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق روس اور بیلاروس کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مغربی پابندیوں کے مقابلے میں دونوں ممالک کی اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔









