پوتن اور زیلنسکی کی ممکنہ ملاقات سے متعلق کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی: یوری اوشاکوف

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ روس کو اب تک کسی بھی فریق کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی امریکہ میں ممکنہ ملاقات کے حوالے سے کوئی باضابطہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوری اوشاکوف نے بتایا کہ صدر پوتن 17 اور 18 جون کو قازان میں ہونے والے روس۔آسیان (ASEAN) سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، جو روس اور آسیان کے درمیان تعلقات کے 35 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ روس اور آسیان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے 35 سالہ سفر کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ تعاون کے نئے شعبوں پر غور کیا جائے گا۔

یوری اوشاکوف کے مطابق سربراہی اجلاس میں برونائی کے سلطان حسن البلقیہ، فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر، ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سمیت آسیان ممالک کے متعدد رہنما شرکت کریں گے، جبکہ روس کی جانب سے اعلیٰ سطحی سرکاری اور کاروباری وفد اجلاس میں موجود ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران قازان اعلامیہ اور 2026 سے 2030 تک روس۔آسیان اسٹریٹجک شراکت داری کے جامع ایکشن پلان سمیت چار مشترکہ دستاویزات منظور کیے جانے کا امکان ہے۔

کریملن کے معاون نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں روس اور آسیان ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ اس وقت تقریباً 22 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

صدر پوتن کے شیڈول کے حوالے سے یوری اوشاکوف نے بتایا کہ روسی صدر قازان میں متعدد دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ وہ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم، برونائی کے سلطان حسن البلقیہ، کمبوڈیا کے وزیراعظم ہُن مانیٹ، لاؤس کے وزیراعظم سونیکسے سیفاندون، تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم انوتن چرن ویراکول اور سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ سے بھی ملاقات کریں گے۔

یوکرین تنازع پر بات کرتے ہوئے یوری اوشاکوف نے کہا کہ 14 جون کو صدر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں زیلنسکی سے ممکنہ ملاقات کا موضوع زیر بحث نہیں آیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کریملن کو توقع ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی کاروباری شخصیت جیرڈ کشنر ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع معاہدے کے بعد ماسکو کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں وہ روسی قیادت کے ساتھ یوکرین سمیت مختلف امور پر بات چیت کریں گے۔

یوری اوشاکوف کے مطابق روس۔آسیان سربراہی اجلاس روس اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں