ماسکو(شاہد گھمن سے) کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ اگر یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو وہ ماسکو آ سکتے ہیں، جہاں ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
ماسکو میں میڈیا بریفنگ کے دوران دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن متعدد بار اپنا مؤقف واضح کر چکے ہیں اور زیلنسکی بخوبی جانتے ہیں کہ روس کس قسم کے مذاکرات کی بات کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ماسکو اور کیف کے درمیان رابطے کے کوئی باضابطہ ذرائع موجود نہیں ہیں، تاہم روس مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا۔
امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے متوقع دورہ روس کے بارے میں دمتری پیسکوف نے کہا کہ ان کے دورے کی حتمی تاریخیں ابھی طے نہیں ہوئیں۔ ان کے مطابق امریکی فریق اس وقت ایک یادداشت پر کام کر رہا ہے جس پر رواں ہفتے کے آخر میں سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد امریکی نمائندوں کا ماسکو کا دورہ ممکن ہو سکے گا۔
کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس کو توقع ہے کہ امریکی وفد مستقبل کے اقدامات اور مختلف بین الاقوامی امور پر روسی قیادت کے ساتھ تبادلہ خیال کرے گا۔
انہوں نے صدر پوتن کی مصروفیات کے بارے میں بتایا کہ روسی صدر منگل کو جمہوریہ شمالی اوسیشیا کے سربراہ سرگئی مینیائیلو سے ملاقات کریں گے، جبکہ 17 سے 19 جون تک قازان میں ہونے والے روس۔آسیان سربراہی اجلاس کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
دمتری پیسکوف کے مطابق قازان میں سربراہی اجلاس کے دوران صدر پوتن متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جس کے باعث اجلاس کے موقع پر سفارتی سرگرمیاں انتہائی مصروف رہیں گی۔
جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں دمتری پیسکوف نے کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن کو فرانس کے شہر ایویان میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی۔









