کریملن میں روس اور سیشلز کے صدور کی پہلی ملاقات، باہمی تعاون پر اہم گفتگو

ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے صدر ولادیمیرپوتن اور جمہوریہ سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمنے کے درمیان کریملن میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے صدور کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں سیاسی، تجارتی، معاشی اور انسانی شعبوں میں تعاون کے فروغ کے علاوہ علاقائی اور عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی صدارتی ملاقات ہے، تاہم صدر پیٹرک ہرمنے اس سے قبل سن 2014 میں اپنے ملک کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی حیثیت سے روس کا دورہ کر چکے ہیں۔
روس اور سیشلز کے تعلقات کی بنیاد سن 1976 میں رکھی گئی تھی، جب سوویت یونین نے سیشلز کی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے 30 جون 1976 کو سفارتی تعلقات قائم کیے۔
دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات میں سیاحت کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ سن 2015 سے روسی شہریوں کو سیشلز میں 30 دن تک بغیر ویزا قیام کی اجازت حاصل ہے، جبکہ گزشتہ برس ہزاروں روسی سیاح سیشلز کا رخ کر چکے ہیں۔
تجارتی روابط کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سن 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 3.3 ملین ڈالر رہا، جبکہ تازہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور سکیورٹی تعاون بھی جاری ہے، جس کے تحت سیشلز کے طلبہ روسی جامعات میں وظائف پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ روس کی جانب سے سیشلز کے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت میں بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں