پابندیوں کے اثرات کم کرنا آتا ہے، روس معاشی دباؤ کا مقابلہ کر رہا ہے: کریملن

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس کئی برسوں سے پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور اب اسے ان کے اثرات کو کم کرنے کا تجربہ حاصل ہو چکا ہے۔

دیمتری پیسکوف نے اپنی روزانہ بریفنگ میں روسی تیل پر پابندیوں اور معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ امریکہ روسی تیل کی خریداری سے متعلق عارضی اجازت میں توسیع نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ روس ان پابندیوں کو بین الاقوامی قانون کے خلاف سمجھتا ہے، تاہم وقت کے ساتھ ان کے اثرات کو کم کرنے کے طریقے سیکھ لیے گئے ہیں۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پیسکوف نے بتایا کہ ولادیمیر پوتن کی زیر صدارت اقتصادی امور سے متعلق اجلاس عموماً بند کمرے میں ہوتے ہیں، جن میں حکومت کے اقتصادی ماہرین معیشت کو مزید تیز کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کرتے ہیں اور ان پر تفصیلی بحث بھی ہوتی ہے۔

دوسری جانب آذربائیجان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ باکو میں زیر حراست روسی شہریوں کے معاملے پر روسی وزارت خارجہ گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے دسمبر 2024 میں پیش آنے والے AZAL طیارہ حادثے کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس حوالے سے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں