ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بین الاقوامی ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی معیشت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے اس وقت گہرے اور بنیادی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی حالات، خصوصاً ایران کی صورتحال، نے توانائی کی عالمی منڈیوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل پر براہ راست اثر ڈالا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں ممالک اور کمپنیوں کے لیے صرف رفتار اور لاگت نہیں بلکہ سلامتی اور استحکام بھی بنیادی ترجیح بن چکے ہیں۔
روسی صدر نے کہا کہ روس عالمی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے نئے نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق روسی راستے نہ صرف ترسیل کے اوقات میں کمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ عالمی سپلائی چین کو متنوع اور زیادہ محفوظ بھی بناتے ہیں۔
پوتن نے اپنے خطاب میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جاری تکنیکی انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، روبوٹکس اور خودکار نظام تیزی سے روایتی طریقوں کی جگہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور گوداموں میں خودکار نظام عام ہوں گے، جبکہ شہروں میں “لاسٹ مائل ڈیلیوری” کے لیے چھوٹے روبوٹک یونٹس استعمال کیے جا رہے ہیں۔
صدر پوتن کے مطابق روس ایک ایسے مربوط اور جدید ٹرانسپورٹ نظام کی تشکیل پر کام کر رہا ہے جس میں تمام خدمات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منظم ہوں گی۔ اس نظام کے تحت بین الاقوامی ٹرانسپورٹ میں یکساں دستاویزات، بہتر نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ روس سائنسی تعاون، مشترکہ تحقیقی پروگراموں اور ماہرین کی تربیت کے ذریعے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس شعبے کو ترقی دینے کے لیے تیار ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ یہ فورم اب ہر دو سال بعد باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا اور شرکاء کو دوبارہ روس آنے کی دعوت بھی دی۔









