کریملن نے امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے سی پی سی کے استعمال کے دعوے مسترد کر دیے

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ روس کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (سی پی سی) کو امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر ایسا کوئی فیصلہ یا تجویز زیر غور نہیں آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے میں نہ صرف امریکی بلکہ قازقستان کے شراکت دار بھی شامل ہیں، اس لیے اسے کسی ایک ملک کے خلاف استعمال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ روس ہمیشہ عالمی توانائی کی ترسیل میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد کردار ادا کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی اپنی ذمہ داریوں کو پوری دیانتداری سے نبھاتا رہے گا۔ ان کے بقول توانائی کی فراہمی کے حوالے سے روس پر کسی قسم کی بداعتمادی کا جواز نہیں بنتا۔

دوسری جانب دمتری پیسکوف نے الزام عائد کیا کہ یوکرین سی پی سی پائپ لائن کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور توانائی کے شعبے کو دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کا نظام بحیرہ کیسپیئن کے خطے سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کا سب سے بڑا راستہ ہے، جو قازقستان کے مغربی تیل کے ذخائر کو روس کے بحیرہ اسود کے ساحل سے جوڑتا ہے، جہاں سے تیل ٹینکرز کے ذریعے دنیا بھر میں برآمد کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں