ماسکو(وائس آف رشیا) ایشیا پیسیفک اور یوریشین اسٹڈیز کے ادارے (کیپس) نے روس کے ادارے تسارگراد انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے ’’یوریشین ازم اور پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت‘‘ کے موضوع پر ایک آن لائن لیکچر کا انعقاد کیا۔ اس لیکچر میں ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں، میڈیا نمائندگان اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر گلِ عائشہ بھٹی نے کی۔
روسی مفکر ڈاکٹر الیگزینڈر ڈوگن نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1990 کی دہائی کے بعد قائم عالمی نظام اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور دنیا ایک نئے کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف خطوں میں تہذیبی ریاستیں ابھر رہی ہیں، جہاں ہر قوم اپنی شناخت، اقدار اور نظام خود طے کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی طرز کے عالمگیریت اور لبرل نظریات کمزور ہو رہے ہیں، جبکہ تہذیبی اور مذہبی رجحانات مضبوط ہو رہے ہیں، جس سے ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی قیادت میں قائم نظام اس تبدیلی کو قبول نہیں کر رہا، جس کے باعث دنیا کے مختلف علاقوں میں کشیدگی اور تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر ڈوگن نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنی جغرافیائی اہمیت، اتحادوں اور ایٹمی صلاحیت کے باعث پاکستان عالمی سیاست میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت عالمی تبدیلیوں کے حوالے سے محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے، تاہم اسے اپنے کردار کے تعین میں واضح موقف اپنانا ہوگا۔

تقریب کے اختتام پر کیپس کے صدر ڈاکٹر خرم اقبال نے کہا کہ پاکستان ایک جدید اسلامی ریاست کے طور پر اپنی خارجہ پالیسی کو قومی مفادات کے مطابق تشکیل دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوریشین ازم کا تصور پاکستان کی پالیسی میں اہمیت رکھتا ہے، جس کا اظہار 2022 کی قومی سلامتی پالیسی میں بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی، افغانستان کی صورتحال اور بھارت کی مخالفت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جو خطے میں تعاون کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔









