روس پر یوکرین کا اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ، 389 ڈرون مار گرائے گئے

ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے مختلف علاقوں پر یوکرین کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ کیا گیا، جسے روسی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق ایک ہی رات میں 389 بغیر پائلٹ طیارے (ڈرونز) مار گرائے گئے، جسے اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق یہ حملے 24 مارچ کی رات 11 بجے سے 25 مارچ کی صبح 7 بجے تک جاری رہے۔ ڈرونز کو ماسکو، لینن گراڈ، برائنسک، اسمولینسک، کالوگا، کورسک، تولا، بیلگورود، اوریول، پسکوف، نوگوروڈ، ولوگدا سمیت مختلف علاقوں میں تباہ کیا گیا، جبکہ کریمیا بھی نشانے پر رہا۔

لینن گراڈ ریجن کے گورنر کے مطابق علاقے میں 56 ڈرونز مار گرائے گئے۔ اس دوران اوست-لوگا بندرگاہ پر آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔ ویبورگ شہر میں ایک رہائشی عمارت کی چھت کو نقصان پہنچا، جبکہ سینٹ پیٹرزبرگ کے نواحی علاقے کرونسٹادٹ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ڈرون حملوں کے باعث فضائی آپریشن بھی شدید متاثر ہوا۔ کئی ایئرپورٹس پر عارضی طور پر پروازوں کی آمد و رفت محدود کر دی گئی، جن میں ماسکو کا شیرمتیوو ایئرپورٹ اور سینٹ پیٹرزبرگ کا پُلکوو ایئرپورٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کالوگا، یاروسلاول، پسکوف اور چیریپوویٹس کے ایئرپورٹس بھی متاثر ہوئے۔

کلینن گراڈ کے خربرووو ایئرپورٹ پر 14 پروازیں تاخیر کا شکار جبکہ 4 منسوخ کر دی گئیں۔ پُلکوو ایئرپورٹ پر 26 پروازوں کا رخ دوسرے ایئرپورٹس کی جانب موڑ دیا گیا، جبکہ 21 پروازیں منسوخ اور 49 پروازیں دو گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار رہیں۔

روسی حکام کے مطابق صورتحال اب قابو میں ہے اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں، جبکہ حملوں کے حوالے سے مزید تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ روس-یوکرین جنگ میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی کرتا ہے، جو خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں