ماسکو(وائس آف رشیا) روس کے دارالحکومت میں 27 مارچ 2026 کو پریس سینٹر “روسیا سیووڈنیا” میں یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم سے متعلق ایک اہم رپورٹ کی پیش کی جائے گی، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرینی نیونا زی عناصر کی جانب سے قیدیوں پر غیر انسانی سلوک کیا گیا۔
رپورٹ کا عنوان “کیف حکومت کے ڈاکٹر مینگلے” رکھا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر ایسے شواہد اور متاثرین کے بیانات شامل ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یوکرینی ڈاکٹرز نے روسی جنگی قیدیوں پر بغیر بے ہوشی کے طبی عمل انجام دیے اور انہیں اذیت کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں دوسری جنگِ عظیم کے نازی ڈاکٹر یوزف مینگلے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کارروائیوں کو اسی طرز کی غیر انسانی سرگرمیوں سے تشبیہ دی گئی ہے، جنہیں تاریخ میں ظلم و بربریت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
بیان کے مطابق ایسے اقدامات جنیوا کنونشن 1949 کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس کے تحت جنگی قیدیوں پر کسی بھی قسم کا جسمانی یا ذہنی تشدد ممنوع ہے۔
تقریب میں متعدد اہم روسی شخصیات شرکت کریں گی، جن میں رپورٹ کے مصنف اور بین الاقوامی عوامی ٹریبونل کے سربراہ میکسم گریگوریف، روسی پارلیمان کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین اندری کارتاپولوف، فیڈریشن کونسل کی کمیٹی کے سربراہ ولادیمیر جباروف، اور روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ روسی تحقیقاتی کمیٹی کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
منتظمین کے مطابق اس رپورٹ میں پیش کیے گئے الزامات کو جنگی جرائم قرار دیا گیا ہے، جن پر بین الاقوامی قوانین کے تحت کوئی مدتِ معیاد لاگو نہیں ہوتی۔









