ماسکو (وائس آف رشیا) پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی اور تحقیقی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کونسلٹیم فار ایشیا پیسفک اینڈ یوریشین اسٹڈیز (CAPES) اور MGIMO یونیورسٹی، روس کے اشتراک سے ایک جامع آن لائن مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔
اس اہم اجلاس میں پاکستان کے 20 سے زائد نمایاں جامعات اور تحقیقی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں پروفیسر ڈاکٹر الیگزینڈر نکیتن، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز، MGIMO یونیورسٹی نے شرکاء کو یونیورسٹی کے تعلیمی پروگرامز، تحقیقاتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تعاون کے مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر MGIMO کے معروف “Inter-Russia” فیلوشپ پروگرام کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے پاکستانی طلبہ، محققین اور پیشہ ور افراد کو اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی روابط کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر گلِ عائشہ بھٹی، ڈائریکٹر یوریشیا چیپٹر CAPES نے ادارے کے کردار اور پاکستان-روس تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ CAPES دونوں ممالک کے درمیان علمی و تحقیقی روابط کو بڑھانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
اجلاس کے دوران ایک بھرپور اور بامقصد مکالمہ دیکھنے میں آیا، جس میں پاکستانی جامعات کے نمائندگان نے تحقیق، اکیڈمک ایکسچینج پروگرامز، مشترکہ پراجیکٹس اور علمی اشاعتوں کے فروغ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔
نمایاں شرکاء میں ڈاکٹر شبیر احمد خان (ایریا اسٹڈی سینٹر، یونیورسٹی آف پشاور)، ڈاکٹر سروت رؤف (شعبہ بین الاقوامی تعلقات، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز)، ڈاکٹر عثمان اسکری (چیئر ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور) اور ڈاکٹر صوبیہ حنیف (اسسٹنٹ پروفیسر، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی) سمیت دیگر ماہرین شامل تھے۔
گفتگو کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے کئی اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں مشترکہ تحقیقی منصوبے، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، اور بین الاقوامی جرائد میں مشترکہ اشاعتوں کے مواقع شامل ہیں۔
یہ اجلاس ڈاکٹر فیصل جاوید، سینئر وائس پریزیڈنٹ CAPES کی زیرِ نظامت منعقد ہوا، جس نے پاکستان اور روس کے تعلیمی اداروں کے درمیان طویل المدتی روابط کے قیام کے لیے ایک مؤثر اور نتیجہ خیز پلیٹ فارم فراہم کیا۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف تعلیمی میدان میں پیش رفت کا باعث بنتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعلقات کو بھی نئی جہت دیتے ہیں۔










