یورپی توانائی منڈیوں سے ممکنہ قبل از وقت انخلا پر غور جاری، کریملن

ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یورپی منڈیوں کو توانائی کی فراہمی ممکنہ طور پر قبل از وقت روکنے کے معاملے پر غور کر رہا ہے، جس کے لیے تفصیلی اور گہرے تجزیے کا عمل جاری ہے۔

بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے یورپی گیس مارکیٹ سے ممکنہ انخلا کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے، اور اس معاملے پر مختلف پہلوؤں سے غور کیا جا رہا ہے۔

دیمتری پیسکوف کے مطابق ایران کے گرد جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ کے رجحانات کی پیشگوئی مشکل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر پیوٹن اس سے قبل روسی حکومت کو یہ ہدایت دے چکے ہیں کہ یورپی منڈی کو توانائی کی فراہمی روکنے کے امکانات اور اس کی افادیت کا جائزہ لیا جائے۔

کریملن کے مطابق یورپی یونین 25 اپریل سے روسی ہائیڈروکاربنز، بشمول مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، کی خریداری پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جبکہ 2027 تک مکمل پابندی بھی متوقع ہے۔

صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں روس کے لیے یہ زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے کہ وہ یورپی منڈی کے مزید اقدامات کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی توانائی کی برآمدات کو دیگر زیادہ موزوں اور منافع بخش منڈیوں کی جانب منتقل کرے۔

کریملن نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ معاشی اور جغرافیائی سیاسی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں