اسلام آباد (وائس آف رشیا) روسی سفیر البرٹ خوریف نے یوکرین کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس اس تنازع کو یوکرین کے ساتھ براہِ راست جنگ نہیں بلکہ “اجتماعی مغرب” کے ساتھ ایک بالواسطہ تصادم کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے اثرات عالمی طاقت کے توازن پر طویل عرصے تک مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ محاذ پر صورتحال روسی افواج کے حق میں ہے، جبکہ یوکرینی افواج میدان میں پسپائی کے بعد شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان کے مطابق روسی شہر بریانسک پر برطانوی اسٹارم شیڈو میزائل سے حملہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔
روسی سفیر کے مطابق 2025 کے دوران روسی علاقوں پر یوکرین کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ تعداد ایک لاکھ تیس ہزار سے تجاوز کر گئی، جبکہ ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جن میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود روس سفارتی حل کے لیے تیار ہے اور 2026 میں تین ادوار پر مشتمل مذاکرات ہو چکے ہیں، تاہم مسئلے کے حل کے لیے یوکرین کو ڈونباس کے عوام کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی افواج واپس بلانا ہوں گی۔
سفیر نے زور دیا کہ روس کسی ایسے جنگ بندی معاہدے کی حمایت نہیں کرے گا جو تنازع کی بنیادی وجوہات کو حل نہ کرے، جن میں نیٹو کی مشرقی توسیع، روسی زبان بولنے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور چرچ کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے زاپوروزیے جوہری بجلی گھر کی سکیورٹی کو ترجیح قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یوکرینی افواج مسلسل اس تنصیب کو نشانہ بنا رہی ہیں، جس سے جوہری خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید برآں انہوں نے دروزھبا آئل پائپ لائن کی بندش اور یورپی ممالک کی جانب سے روسی اثاثوں کو ضبط کرنے کی کوششوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
روسی سفیر نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 2025 میں ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلے کے حل کی کوشش جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس اسٹریٹجک استحکام کے لیے سیاسی و سفارتی راستے کھلے رکھے ہوئے ہے، تاہم قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے دوران لاپتہ بچوں کے معاملے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے اور متعدد بچوں کو ان کے اہل خانہ سے ملایا جا چکا ہے۔
آخر میں انہوں نے پاکستان کے مؤقف کو متوازن قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان یوریشیائی تعاون اور کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام میں مثبت کردار ادا کرے گا۔









