ماسکو(وائس آف رشیا) یوکرین نے جنگ کے آغاز سے اب تک 500 سے زائد مغربی ساختہ میزائل داغے ہیں، جن میں امریکی، برطانوی اور فرانسیسی نظام شامل ہیں۔
روسی نیوز ایجنسی تاس کی رپورٹ کے مطابق ان میزائلوں میں ATACMS، اسٹورم شیڈو اور اسکالپ نمایاں ہیں، جن کا استعمال خاص طور پر 2023 میں مغربی امداد کے آغاز کے بعد بڑھا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں تقریباً 120 اسٹورم شیڈو اور اسکالپ میزائل جبکہ 13 ATACMS میزائل داغے گئے۔ 2024 میں حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں 220 کے قریب ATACMS حملے اور 90 سے زائد کروز میزائل حملے کیے گئے۔
تاہم 2025 میں اس میں کمی آئی، اور تقریباً 45 اسٹورم شیڈو/اسکالپ اور 24 ATACMS میزائل استعمال کیے گئے۔ مارچ 2026 میں یوکرین نے روس کے بریانسک ریجن کو نشانہ بناتے ہوئے 7 برطانوی میزائل داغے۔
اسٹورم شیڈو اور اسکالپ میزائل کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے یہ دفاعی نظام سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ ان کی مار تقریباً 560 کلومیٹر تک ہے۔
دوسری جانب ATACMS میزائل جدید نیویگیشن سسٹم سے لیس ہوتے ہیں، جو انہیں زیادہ درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانے کے قابل بناتے ہیں۔
مجموعی طور پر سب سے زیادہ استعمال برطانوی اسٹورم شیڈو اور امریکی ATACMS میزائلوں کا کیا گیا، جبکہ فرانسیسی اسکالپ میزائل نسبتاً کم استعمال ہوئے۔









