بیلاروس میں روسی “اورشنیک” میزائل سسٹم کی نقل و حرکت جاری رہے گی: صدر الیگزینڈر لوکاشینکو

منسک (وائس آف رشیا) بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے اعلان کیا ہے کہ روس کا جدید “اورشنیک” میزائل سسٹم دسمبر میں بیلاروس میں جنگی حالت (Combat Duty) میں تعینات کیا جائے گا، تاہم یہ کسی ایک مقام پر مستقل طور پر موجود نہیں رہے گا بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں حرکت کرتا رہے گا۔

صدر لوکاشینکو نے کہا کہ “یہ ایک متحرک نظام ہے، جو کبھی ایک جگہ نہیں رکے گا۔ یہ مخصوص مقامات پر گشت کرے گا اور ضرورت پڑنے پر مخصوص سمت سے کارروائی بھی کر سکے گا۔” انہوں نے کہا کہ امریکہ تاحال اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ اسے بیلاروس میں روسی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں درست معلومات نہیں ہیں۔ “اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایسے ہتھیار حاصل نہیں، تو یہ ان کی مرضی ہے۔ ہم نے پہلے ہی انہیں خبردار کر دیا ہے۔ ہم یہ ظاہر نہیں کریں گے کہ کتنے ہتھیار کہاں ہیں — یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے، اور وہ محفوظ مقام پر موجود ہیں۔”

بیلاروس کے صدر نے بتایا کہ ان ہتھیاروں کی حال ہی میں روس میں مرمت اور جدید کاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم تمام تفصیلات ظاہر نہیں کر سکتے، نہ صرف اپنے عوام کی وجہ سے بلکہ بیرونی دنیا کے لیے بھی یہ ضروری نہیں۔”

یاد رہے کہ 25 مارچ 2023 کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا تھا کہ منسک کی درخواست پر روس اپنے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بیلاروس میں تعینات کرے گا، جیسا کہ امریکہ طویل عرصے سے اپنے اتحادی ممالک میں کرتا آ رہا ہے۔ بعد ازاں، اپریل 2024 میں صدر لوکاشینکو نے تصدیق کی تھی کہ بیلاروس میں “کئی درجن” جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔

مارچ 2025 میں نافذ ہونے والے یونین اسٹیٹ کے سلامتی معاہدے کے تحت، روس اور بیلاروس نے طے کیا کہ روسی جوہری ہتھیار دونوں ممالک کے لیے دفاعی توازن اور جنگی تنازعات کی روک تھام کا اہم ذریعہ ہوں گے، اور ان کا استعمال صرف انتہائی ناگزیر صورت میں کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں