منسک (وائس آف رشیا) بیلاروس کی پارلیمنٹ نے پاکستان کے ساتھ ری ایڈمیشن (واپسی) سے متعلق بین الحکومتی معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان غیر قانونی طور پر داخل یا مقیم شہریوں کی واپسی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرے گا۔
بیلاروس کے نائب وزیر داخلہ و سربراہِ کرمنل پولیس جنرل گینادی کازاکیویچ کے مطابق یہ معاہدہ غیر قانونی ہجرت کے خلاف ایک مؤثر قدم ہے، جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایسے شہریوں کو واپس قبول کرنے کے پابند ہوں گے جو دوسرے ملک میں غیر قانونی طور پر موجود پائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی نقل مکانی روکنے کے لیے ایسے معاہدے نہایت اہم ہیں۔ بیلاروس اس سے قبل روس، قازقستان، کرغزستان، آرمینیا، جارجیا، ترکی، یوکرین اور یورپی یونین کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے معاہدے کر چکا ہے۔
نائب وزیر نے بتایا کہ یہ معاہدہ 11 اپریل 2025 کو منسک میں دستخط ہوا تھا، جس کا مقصد پاکستان کے شہریوں کی غیر قانونی داخلے یا یورپی ممالک کی طرف ہجرت کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس معاہدے میں کسی تیسرے ملک کے شہریوں یا بے وطن افراد کی واپسی کی شق شامل نہیں، کیونکہ پاکستان اور بیلاروس کی نہ کوئی مشترکہ سرحد ہے اور نہ ہی براہِ راست فضائی رابطہ۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب بیلاروس کے صدر نے “یوریشین سیکیورٹی فورم” میں غیر قانونی مہاجرین سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔









