استنبول کی آیا صوفیہ مسجد میں روسی شہریوں کی حراست، روسی قونصل خانہ تحقیقات میں مصروف

انقرہ (وائس آف رشیا) استنبول میں روس کے قونصل خانے نے آیا صوفیہ گرینڈ مسجد میں دو روسی شہریوں کی حراست کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

روس کے سفارت خانے نے روسی نیوز ائجنسی تاس کو بتایا کہ اس وقت واقعے کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں، تاہم روسی سفارت کار معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

استنبول پولیس کے ذرائع نے واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ اسی طرح استنبول کی صوبائی انتظامیہ اور محکمہ امیگریشن نے بھی اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جس ہوٹل میں دونوں روسی شہری مقیم تھے، اس کے انتظامیہ نے بھی مہمانوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ترک قانون کے تحت تیسرے فریق کو مہمانوں کی معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

روسی میڈیا کے مطابق 13 جولائی کو وکٹوریہ اور ایگور نامی دو روسی شہری آیا صوفیہ مسجد میں بائبل کی تلاوت کر رہے تھے، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق پولیس نے ان کے خلاف ترک تعزیرات کے آرٹیکل 216 کے تحت رپورٹ درج کی، جس کا تعلق مختلف سماجی یا مذہبی گروہوں کے درمیان نفرت یا دشمنی کو ہوا دینے یا کسی گروہ کی توہین سے متعلق الزامات سے ہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے جولائی 2020 میں ایک صدارتی فرمان کے ذریعے آیا صوفیہ، جو اس سے قبل عجائب گھر کے طور پر استعمال ہو رہی تھی، کو دوبارہ مسجد کا درجہ دیا تھا، جس کے بعد وہاں باقاعدہ نماز اور دیگر مذہبی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں