ماسکو(وائس آف رشیا) کریملن نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ کی توجہ یوکرین تنازع کے بجائے خلیج فارس کی کشیدہ صورتحال پر مرکوز ہے، تاہم ماسکو کو موجودہ رابطہ ذرائع کے ذریعے ایسے اشارے موصول ہو رہے ہیں کہ ایران کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد واشنگٹن یوکرین تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہے۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث امریکہ کی توجہ اس وقت یوکرین کے بجائے مشرق وسطیٰ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو جاری رابطوں کے ذریعے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ مناسب وقت آنے پر یوکرین تنازع کے حل کے لیے ثالثی کا عمل دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔
پیسکوف نے واضح کیا کہ روس نے سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ کے ذریعے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو کوئی پیغام نہیں بھیجا، جبکہ سربیا اس وقت یوکرین تنازع کے حل کے لیے کسی ثالثی عمل کا حصہ بھی نہیں ہے۔
امریکہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیوں کے امکان کے بارے میں کریملن کے ترجمان نے کہا کہ ماسکو امریکی صدر اور دیگر حکام کے بیانات کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
لٹویا میں ذرائع ابلاغ میں روسی زبان کے استعمال پر ممکنہ پابندی کے حوالے سے پیسکوف نے کہا کہ یہ اقدام بڑی تعداد میں روسی زبان بولنے والے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگا۔ ان کے مطابق لٹویا طویل عرصے سے ہر روسی چیز کے خلاف پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے لتھوانیا کے صدر گیتاناس ناؤسیدا کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ روس بالٹک ممالک کی تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ پیسکوف نے اسے “خوف پھیلانے کی نئی مہم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات کا مقصد عوامی رائے کو متاثر کرنا اور خطے میں نیٹو کی فوجی موجودگی اور عسکری انفراسٹرکچر میں مزید اضافہ کرنے کے لیے جواز فراہم کرنا ہے۔









