روس کو یوکرین مذاکرات سے باہر رکھنے کا تصور یورپی یونین کے تعطل کا مظہر ہے، کریملن

ماسکو(وائس آف رشیا): کریملن نے جرمن چانسلر فریڈرش مرز کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کی سکیورٹی ضمانتوں سے متعلق مذاکرات میں روس کو شامل نہ کرنے کا مؤقف یورپی یونین کی “تعطل کا شکار” پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ جرمن چانسلر کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یورپی ممالک یوکرین تنازع کے حل کے حوالے سے ایک بند گلی میں کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یورپی یونین اسی مؤقف پر قائم رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں یورپی ممالک خود ہی یوکرین تنازع کے حل کے عمل سے باہر ہو جائیں گے۔

پیسکوف کے مطابق اگر یہ واقعی یورپی ممالک کا اجتماعی مؤقف ہے اور وہ اسی پر اصرار کرتے ہیں، تو ایسی صورت میں تصفیے کے عمل میں ان کی شمولیت عملاً ممکن نہیں رہے گی۔

کریملن کے ترجمان نے مزید کہا کہ روس کی شمولیت کے بغیر یوکرین کے لیے مؤثر سکیورٹی ضمانتوں کا تصور ممکن نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں