یوکرینی پارلیمنٹ نے وزیراعظم اور پوری حکومت کو برطرف کر دیا

ماسکو(وائس آف رشیا) یوکرین کی پارلیمنٹ ورخوونا راڈا نے وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کو اکثریتی ووٹ سے عہدے سے برطرف کر دیا، جس کے بعد یوکرینی آئین کے مطابق پوری کابینہ بھی مستعفی تصور کی جائے گی۔

پارلیمنٹ کے اجلاس میں وزیراعظم کی برطرفی کے حق میں 258 ارکان نے ووٹ دیا، جو مطلوبہ 226 ووٹوں سے کہیں زیادہ ہے۔ پانچ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ ایک رکن نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

یولیا سویریڈینکو، جو 17 جولائی 2025 سے وزیراعظم کے عہدے پر فائز تھیں، نے ایک روز قبل اپنا استعفیٰ پارلیمنٹ میں جمع کرایا تھا۔ انہوں نے 13 جولائی کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ استعفیٰ ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے حکومتی ردوبدل کے فیصلے کے تحت دیا گیا۔ زیلنسکی نے 12 جولائی کو کابینہ میں تبدیلی کا اعلان کیا تھا۔

یوکرینی قانون کے مطابق وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی پوری کابینہ بھی تحلیل ہو جاتی ہے، تاہم نئے وزراء کے تقرر تک موجودہ وزراء نگران حیثیت میں اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ پارلیمنٹ میں نئی کابینہ کی منظوری 16 جولائی کو متوقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت سرونٹ آف دی پیپل کے کئی ارکان نے بھی اس بات پر ناراضی کا اظہار کیا کہ حکومت کی برطرفی سے قبل انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ بعض وزراء کو اپنی ممکنہ برطرفی کا علم بھی صدر زیلنسکی کی ٹیلیگرام پوسٹ سے ہوا۔

یولیا سویریڈینکو کے آئندہ کردار کے بارے میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض ارکان پارلیمنٹ کے مطابق انہیں امریکہ میں یوکرین کا سفیر مقرر کیا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر اطلاعات کے مطابق وہ صدر زیلنسکی کے دفتر کی سربراہ بن سکتی ہیں۔ تاہم ان تقرریوں کی سرکاری طور پر ابھی تک تصدیق نہیں کی گئی۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئی کابینہ میں وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور دیگر اہم وزارتوں میں تبدیلیوں کا امکان ہے، تاہم ان فیصلوں کا باضابطہ اعلان نئی حکومت کی تشکیل کے وقت متوقع ہے۔

حکومتی ردوبدل کی وجوہات کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ بعض یوکرینی اور روسی مبصرین نے اسے بیرونی دباؤ، سفارتی تقرریوں، بدعنوانی سے متعلق تحقیقات اور آئندہ موسم سرما سے قبل حکومتی تیاریوں سے جوڑا ہے، تاہم ان تجزیوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں