ماسکو (وائس آف رشیا) روس نے امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تنازع کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ماسکو واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والے اتفاقِ رائے کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق روس، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو سراہتا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری دشمنی کا خاتمہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ روس اس بات کو بھی اہم سمجھتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران نے دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے پر پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور تنازع کے پُرامن حل کی راہ ہموار کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔
ماسکو نے زور دیا کہ آئندہ حساس مرحلے میں، جب ایک جامع معاہدے کی تیاری پر کام ہوگا، تمام متعلقہ فریقوں کو موجودہ مفاہمتوں کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے تاکہ خطے میں دوبارہ کشیدگی پیدا نہ ہو، خصوصاً لبنان سمیت دیگر حساس علاقوں میں امن و استحکام برقرار رہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق خلیج فارس کے دونوں اطراف موجود ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی عالمی توانائی اور خوراک کی منڈیوں میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ بیان میں ایران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے وابستگی کے اعادے کو بھی سراہا گیا اور اسے تہران کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا مؤثر جواب قرار دیا گیا۔
روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز سے ہی روس نے اس بحران پر واضح اور اصولی مؤقف اختیار کیا۔ ماسکو نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل تلاش کرنے کی حمایت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار اور طویل المدتی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
وزارتِ خارجہ نے یاد دلایا کہ 30 مئی کو روس نے عرب اور ایرانی شراکت داروں کے سامنے خلیج فارس میں اجتماعی سلامتی کے لیے اپنا تازہ ترین منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں تنازعات کے مرحلہ وار حل، اعتماد سازی اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق آزاد بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔
امریکہ، ایران اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے حکام نے 14 جون کو اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سمیت مختلف امور پر مذاکرات کیے جائیں گے۔
معاہدے کے تحت 15 جون سے امریکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روک دی جائیں گی۔
روسی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام کا باعث بنے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے اور زیادہ مستحکم علاقائی نظام کی تشکیل کے لیے بھی بنیاد فراہم کرے گا۔









