ماسکو (وائس آف رشیا) روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹو کے کسی بھی رکن ملک نے روس کے کسی خطے کے خلاف جارحیت کی تو ماسکو اس کا “فیصلہ کن اور تباہ کن” جواب دے گا۔
ماسکو میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس اپنی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کے کسی بھی رکن ملک کی جانب سے روسی سرزمین کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اگر نیٹو کا کوئی بھی ملک روس کے کسی بھی علاقے کے خلاف جارحیت کرتا ہے تو اس اقدام کے آغاز کرنے والوں کو روس کی جانب سے فیصلہ کن اور تباہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے مغربی ممالک کے فوجی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغرب کے نام نہاد بریگیڈ کمانڈر، ان کی عسکری صلاحیتیں، دفاعی لائنیں یا دیگر وسائل انہیں ایسے کسی ممکنہ ردعمل سے نہیں بچا سکیں گے۔
ماریہ زخارووا نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے بعض بیانات اور اقدامات براعظم یورپ کو کس سمت دھکیل رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ پالیسیوں سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے نتائج پورے یورپ کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
روسی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور مغربی ممالک کے درمیان یوکرین جنگ، سلامتی اور دفاعی معاملات پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ روس مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ نیٹو کی بعض سرگرمیاں اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ مغربی ممالک روسی الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔









