بیلاروسی بچوں کی بس پر حملہ دانستہ طور پر کیا گیا، سرگئی لاوروف

ماسکو (وائس آف رشیا) روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا ہے کہ روس کے بریانسک ریجن میں بیلاروسی بچوں کی فٹبال ٹیم کو لے جانے والی بس پر یوکرینی حملہ دانستہ طور پر کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری اہداف، بالخصوص بچوں، کو نشانہ بنانا کیف حکومت کی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔

روسی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ اس نوعیت کے حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور معاشرے کے اتحاد کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی افواج جان بوجھ کر شہری تنصیبات اور معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔

روسی حکام کے مطابق 17 جون کو یوکرینی مسلح افواج نے ایک فکسڈ وِنگ ڈرون کے ذریعے بریانسک ریجن میں ایک بس پر حملہ کیا، جس میں بیلاروس کے بچوں کی فٹبال ٹیم سفر کر رہی تھی۔ حملے کے نتیجے میں ٹیم کے ہمراہ موجود ایک خاتون ہلاک ہو گئی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

بیلاروس کی وزارتِ صحت کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے آٹھ افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں چھ بچے شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور بعض بچوں کی حالت پر ڈاکٹروں کی جانب سے مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے۔

دریں اثنا، روسی تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے دہشت گردی کے الزام کے تحت فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کے لیے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔

روسی حکام نے اس واقعے کو ایک سنگین انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت کی جائے۔ تاہم یوکرینی حکام کی جانب سے اس واقعے اور روسی الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر شہری آبادی اور غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ جنگی محاذ سے متعلق دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق اکثر ممکن نہیں ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں