روس۔آسیان سربراہی اجلاس: کازان اعلامیہ منظور، اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے مرحلے کا آغاز

کازان (وائس آف رشئا) روس اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان (ASEAN) کے سربراہان نے روس۔آسیان سربراہی اجلاس کے اختتام پر کازان اعلامیہ منظور کر لیا، جس میں بین الاقوامی امور اور مستقبل کے تعاون کے شعبوں میں دونوں فریقوں کے مشترکہ مؤقف اور ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے۔

اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شریک ممالک کے وفود کے سربراہان نے 2026 سے 2030 تک روس۔آسیان اسٹریٹجک شراکت داری کے نفاذ کے جامع منصوبے کے علاوہ توانائی اور ثقافتی تعاون سے متعلق مشترکہ بیانات کی بھی منظوری دی۔

اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ روس اور آسیان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور جمہوری کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کی حمایت جاری رکھیں گے۔

دستاویز کے مطابق دونوں فریق تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں گے، جبکہ توانائی، غذائی تحفظ، زراعت، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، ڈیجیٹلائزیشن، سائنس و ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیاحت اور جدید صنعتی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

اعلامیے میں حیاتیاتی سلامتی کو مضبوط بنانے اور وبائی امراض سمیت متعدی بیماریوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے روس اور آسیان کے درمیان حیاتیاتی سلامتی سے متعلق ایک خصوصی مکالماتی نظام قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

علاوہ ازیں، فریقین نے سرحد پار جرائم کے خلاف تعاون بڑھانے، سمندری سلامتی کو فروغ دینے، بحری قزاقی اور اہم بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ آسیان، یوریشین اکنامک یونین اور شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ شراکت داری کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے۔

اجلاس میں منظور کیے گئے 2026-2030 جامع منصوبۂ عمل میں سیاسی روابط، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، نقل و حمل، زراعت، ڈیجیٹل معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے کے لیے مخصوص اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

روس اور آسیان نے توانائی کے شعبے میں مشترکہ تعاون سے متعلق ایک علیحدہ اعلامیہ بھی منظور کیا۔ اس میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور منڈیوں کے عدم استحکام کے باعث عالمی توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

دستاویز میں روس کو توانائی کے شعبے میں ایک اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا گیا، جو روایتی اور جدید دونوں توانائی ذرائع میں وسیع تجربہ رکھتا ہے۔

فریقین نے تیل، گیس، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور بجلی کے شعبوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور طویل المدتی تجارتی شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ توانائی کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا ہو۔

اجلاس میں ثقافتی تعاون سے متعلق مشترکہ بیان بھی منظور کیا گیا، جس کے تحت روس اور آسیان ممالک نے لسانی اور ثقافتی تنوع کے تحفظ اور فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔

دونوں فریق مستقبل میں مشترکہ سالِ ثقافت منانے کے امکانات کا جائزہ لیں گے، جبکہ ثقافتی شعبے میں افرادی قوت کی تربیت، تعلیمی پروگراموں، تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، ثقافتی سیاحت اور عجائب گھروں و تاریخی یادگاروں کی بحالی کے منصوبوں میں تعاون کو بھی وسعت دی جائے گی۔

مشترکہ بیان کے مطابق روس اور آسیان ممالک نوجوانوں کے سمفنی آرکسٹرا کی سرگرمیوں کی حمایت کریں گے اور ڈیجیٹل مواد کی منڈی کو فروغ دینے کے لیے ثقافتی و تخلیقی صنعتوں کی ترقی میں بھی تعاون بڑھائیں گے۔

مبصرین کے مطابق کازان اجلاس کے فیصلے روس اور آسیان کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کی بنیاد فراہم کریں گے، جبکہ دونوں فریق عالمی اور علاقائی امور میں اپنے تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے خواہاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں