پاکستان روس تعلقات بدلتے عالمی نظام میں مزید اہم ہو رہے ہیں، قازان فورم میں دوطرفہ تعاون پر زور

قازان (وائس آف رشیا) وفاقی وزیر رانا مبشر اقبال اور وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طلحہ برکی روس کے شہر قازان میں منعقدہ بین الاقوامی اقتصادی فورم “روس – اسلامک ورلڈ: قازان فورم” میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

قازان فورم کے موقع پر قازان فیڈرل یونیورسٹی کے زیر اہتمام دوسری روس۔پاکستان بین الاقوامی کانفرنس “تبدیل ہوتے عالمی نظام میں روس۔پاکستان تعلقات کا ارتقا” بھی منعقد کی گئی، جس میں مختلف ممالک کے اسکالرز، پالیسی ساز، کاروباری شخصیات اور طلبہ نے شرکت کی۔

کانفرنس کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طلحہ برکی نے پاکستان اور روس کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان روس کو عالمی سطح پر امن، استحکام اور کثیر القطبی نظام کے فروغ میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان صدر ولادیمیر پوتن کے شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور وژن کا حصہ بننے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، اور اسلام آباد بین الاقوامی نارتھ۔ساوتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کو گوادر پورٹ سے منسلک کرنا چاہتا ہے۔

طلحہ برکی کے مطابق اس نوعیت کی علاقائی رابطہ سازی چینی صدر شی جن پنگ کے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کی بھی تکمیل کرے گی، جس سے پورے یوریشین خطے میں معاشی تعاون اور انضمام کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں سفارتکاری کے ساتھ ساتھ تجارت، توانائی، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا سیاسی اعتماد مستقبل میں وسیع اقتصادی اور تزویراتی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے، جبکہ پاکستان یوریشین خطے کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔

فیصل نیاز ترمذی نے تعلیمی سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات، تحقیقی اداروں اور نوجوانوں کے درمیان روابط دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

کانفرنس سے پاکستان میں روسی سفیر البرٹ خوروف نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے پاکستان اور روس کے درمیان بدلتے عالمی حالات میں بڑھتے ہوئے تعاون، اقتصادی روابط، سفارتی اشتراک اور طویل المدتی شراکت داری کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔

کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، تجارتی، ثقافتی اور علاقائی تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں