روس کا جدید “سرمات” بین البراعظمی میزائل رواں سال کے اختتام تک جنگی ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے گا: صدر پوتن

ماسکو(وائس آف رشیا) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ روس کا جدید ترین بھاری بین البراعظمی بیلسٹک میزائل “سرمات” رواں سال کے اختتام تک باضابطہ طور پر جنگی ڈیوٹی پر تعینات کر دیا جائے گا۔

سرمات میزائل کے کامیاب تجربے سے متعلق رپورٹ سننے کے بعد صدر پوتن نے کہا کہ “سرمات واقعی اس سال کے اختتام تک combat alert پر آ جائے گا۔”

روسی صدر نے اس موقع پر وزارت دفاع، سائنسدانوں، انجینئرز، دفاعی صنعت سے وابستہ ماہرین، مرکزی کنٹریکٹرز اور ہزاروں کارکنوں کو اس کامیابی پر مبارکباد دی۔

پوتن نے کہا کہ یہ روسی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم کامیابی ہے اور اس منصوبے میں شامل تمام افراد نے غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے خصوصی طور پر روسی اسٹریٹجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکائیف کا بھی شکریہ ادا کیا۔

“سرمات” روس کا جدید بھاری بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ہے، جسے دنیا کے طاقتور ترین اسٹریٹجک ہتھیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

روسی حکام کے مطابق یہ میزائل انتہائی طویل فاصلے تک متعدد جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جدید میزائل دفاعی نظاموں کو عبور کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق “سرمات” کی باضابطہ تعیناتی روس کی اسٹریٹجک دفاعی طاقت میں اہم اضافہ تصور کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں